نظام وصیت — Page 163
163 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ پاس تفسیر صغیر نہیں ہے انہیں تفسیر صغیر خرید لینی چاہیے۔کیونکہ وہ ترجمہ بھی ہے اور مختصر تفسیری نوٹ بھی اس میں ہیں۔عام سمجھ کا آدمی بھی بہت سی جگہوں میں صحیح حل تلاش کر لیتا ہے جو اس کے بغیر اس کے لئے مہم رہیں۔جماعتی نظام کا کام : جماعتی تنظیم کا یہ کام ہے وہ تعلیم القرآن کے کام کو کامیاب بنانے کی کوشش کرے نیز وہ یہ دیکھے کہ انصار اللہ۔موصیان۔خدام۔لجنہ اور ناصرات کے سپر د جو کام کیا گیا ہے وہ ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔(روز نامه الفضل 10 اپریل 1969، صفحہ 2 تا 5 آسمانی رفعتوں تک پہنچانے والا نظام ہے (خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اپریل 1982ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:- اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ میں نظامِ وصیت کو قائم کیا۔ایک عظیم نظام ہے ہر پہلو کے لحاظ سے۔کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جو مبر ہیں یا داخل ہیں سلسلہ عالیہ احمدیہ میں ، ان میں سے ایک گروہ ایسا ہو جو اسلامی تعلیم کی رو سے ذمہ داریوں کو اس قدر توجہ اور قربانی سے ادا کرنے والا ہو کہ ان میں اور دوسرے گروہ میں ایک مابہ الامتیاز پیدا ہو جائے۔صرف ۱۱۱۰ مالی قربانی کا نام نہیں۔یہ نظام ہے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمانی رفعتوں تک پہنچانے کا اور جہاں اس نظام میں مالی قربانی کی امید رکھی جاتی ہے وہاں ہر دوسرے پہلو سے ایک نمایاں، بھر پور اسلامی زندگی جو ہر لحاظ سے منور ہو اور حسین ہو اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں رفعتوں کی طرف لے جانے والی ہو اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والی ہو۔جہاں تک مالی قربانی کا سوال ہے عملی زندگی میں الجھنیں پیدا بھی ہوتی ہیں۔الجھنیں دور بھی کی جاتی