نظام وصیت — Page 162
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 162 ناصرات الاحمدیہ ان لوگوں کی نگرانی میں جن کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے قرآن کریم پڑھ رہی ہیں یا نہیں۔میں لجنہ اماءاللہ پر یہ ذمہ داری عائد نہیں کر رہا کہ وہ سب کو قرآن کریم پڑھائیں۔کیونکہ اس سے تو باہم تصادم ہو جائے گا۔کیونکہ میں نے کہا ہے کہ ہر ایک موصی دو اور افراد کو قرآن کریم پڑھائے۔اگر مثلاً اس کی بیوی قرآن کریم پڑھنا نہیں جانتی تو وہ پہلے اپنی بیوی کو ہی پڑھائے گا۔یا میں نے یہ ہدایت دی ہے کہ ہر رکن انصار اللہ اس ماحول میں جس ماحول کا وہ راعی ہے قرآن کریم کی تعلیم کو جاری کرے۔لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ جن پر قرآن کریم پڑھانے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے (جہاں تک مستورات اور ناصرات کا تعلق ہے ) وہ اپنی ذمہ داری کو نباہ رہے ہیں یا نہیں۔اگر وہ اپنی ذمہ داری کو نباہ نہیں رہے تو آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اس ذمہ داری کو نبا ہیں اور مستورات اور ناصرات کو پڑھانا شروع کر دیں۔اور اس کی اطلاع مرکز میں ہونی چاہیے۔کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ ہم پوری طاقت کے ساتھ پوری ہمت کے ساتھ اور انتہائی کوشش کے ساتھ تعلیم القرآن کے اس دوسرے دور میں داخل ہوں اور خدا کرے کہ کامیابی کے ساتھ (جہاں تک موجودہ احمدیوں کا تعلق ہے ) اس سے باہر نکلیں۔ویسے یہ سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ نئے بچے۔نئے افراد۔نئی جماعتیں اور نئی قو میں اسلام میں داخل ہوں گی اور اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا۔تو ساری دنیا کا معلم بننے کی تربیت آپ ہی کو کرنی چاہیے۔خدا جانے آپ میں سے کس کو یہ توفیق ملے کہ وہ ساری دنیا میں تعلیم القرآن کی کلاسیں کھولنے کا کام کرے لیکن اگر ہم آج تیاری نہ کریں تو اس وقت اس ذمہ داری کو جو اُس وقت کی ذمہ داری ہوگی ہم نباہ نہیں سکیں گے۔غرض موصیوں کی تنظیم بھی اور انصار اللہ کی تنظیم بھی اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم بھی اور لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ کی تنظیم بھی اس طرف پورے اخلاص اور جوش اور ہمت کے ساتھ متوجہ ہو جا ئیں اور کوشش کریں کہ جلد سے جلد ہم اپنے ابتدائی کام کو پورا کر لیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے تفسیر القرآن تو نہ ختم ہونے والا کام ہے وہ تو جاری رہے گا۔اس سلسلہ میں میں سمجھتا ہوں کہ جن دوستوں کے