نظام وصیت

by Other Authors

Page 159 of 260

نظام وصیت — Page 159

159 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کی قربانی اور ان کے عمل کے زمانہ کو ختم کر کے ان کی جزا ء اور ثواب اور اجر کا زمانہ شروع کر دیا تو وہ یہی تڑپ لے کر اس دنیا سے اُس دنیا میں داخل ہوئے کہ اگر اللہ انہیں پھر زندگی دے تو وہ اسی طرح موت سے لپیٹیں گے۔اور اگر پھر اللہ تعالیٰ انہیں زندگی دے تو پھر بھی وہ ایسا ہی کریں گے۔اسی تڑپ کے ساتھ انہوں نے اس دنیا کو چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جذبہ کی جزاء دوسروں کی جزاء کے برابر ہی ان کو بھی دی۔اگر کوئی موصی یہ مجھتا ہو کہ اس وقت میری عمر ۷۵ سال ہے اور آج تک میں نے کبھی پڑھنے کی کوشش نہیں کی اگر میں اب قرآن کریم پڑھنا اور سیکھنا شروع کروں تو میں اسے ختم نہیں کر سکتا۔تو میں اس کو کہوں گا کہ جو مثال میں نے ابھی دی ہے اس پر غور کرو۔اگر تم قرآن کریم پڑھنا یا اس کا ترجمہ سیکھنا یا اس کی تفسیر سیکھنا شروع کر دو گے تو اگر ایک آیت پڑھنے کے بعد تم اس دنیا سے رخصت ہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں وہی جزاء دے گا جو اس نے ان لوگوں کے لئے مقدر کی ہے جن کو اس کی طرف سے سارا قرآن کریم ناظرہ پڑھنے اس کا ترجمہ سیکھنے اور اس کی تفسیر جاننے کی توفیق ملی۔کیونکہ جو کوشش بدنیتی کی وجہ سے نہیں بلکہ آسمانی فیصلہ کے نتیجہ میں بظاہر بند ہوتی نظر آتی ہے وہ بند نہیں ہوا کرتی اپنی جزاء کے لحاظ سے۔وہ کوشش اور وہ عمل اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور اس کی قدرت کاملہ میں جاری ہی سمجھا جاتا ہے اور اسی کے مطابق ہمارا رب اپنے حقیر اور نا اہل بندوں کو جزاء دیا کرتا ہے۔ورنہ کون انسان ابدی جزاء کا مستحق ہو سکتا ہے یہ تو اس کی رحمت کا سلوک ہی ہے کہ اس کے ایک عاجز بندے کو اس کے محدود اعمال کا غیر محدود بدلہ مل جاتا ہے۔پس اس خیال سے مت ڈرو کی شاید ہم قرآن کریم ناظرہ ختم کرنے سے قبل اس دنیا کو چھوڑ جائیں یا قرآن کریم کا ترجمہ ختم کرنے سے قبل اس دنیا کو چھوڑ جائیں۔اگر آپ نے پہلے غفلت کی ہے تو اس غفلت کے بد نتائج سے بچنے کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ اب آپ جس عمر میں بھی ہوں پوری محنت اور جانفشانی کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھنے اور سیکھنے کی کوشش کریں۔