نظام وصیت

by Other Authors

Page 158 of 260

نظام وصیت — Page 158

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 158 کر سیکھا ہے۔اور ان میں سے بعض قرآن کریم کے احکام کو ان افراد سے بھی شاید زیادہ جانتے ہیں جنہوں نے با قاعدہ طور پر جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کی۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگ بھی اس طرف متوجہ ہونے چاہئیں کہ وہ قرآن کریم کو پڑھنا سیکھیں قرآن کریم کا ترجمہ سیکھیں اور پھر تفسیر پڑھ پڑھ کر اپنے علم کو بڑھانے کی کوشش کریں۔کوشش خود اگر نیک نیتی کے ساتھ ہو تو کامیاب کوشش کا نتیجہ پیدا کر دیتی ہے یعنی اگر ایسی کوشش ہو جو حالاتِ زمانہ کی وجہ سے یا اللہ تعالیٰ کی بعض دیگر مصلحتوں کی وجہ سے اپنے کامیاب اختتام تک نہ پہنچ سکے تو وہ بھی خلوص نیت کی وجہ سے وہی پھل پاتی ہے جو ایسی کوشش پا رہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اپنے نیک انجام کو پہنچ گئی مثلاً جولوگ جنگِ بدر میں (جو اسلام کی پہلی جنگ تھی ) میں شریک ہوئے ان کی دو طرح کی کوششیں ہمیں نظر آتی ہیں۔ان میں سے ایک تو وہ تھے جن کی کوشش اسی میدان میں ختم ہوگئی۔انہوں نے جام شہادت پی لیا اور وہاں خدا کی راہ میں اور اس کی رضا کے حصول کے لئے ایک قربانی دیدی۔لیکن کچھ اور لوگ تھے جو بدر کے میدان میں بھی اللہ کی رضا کے حصول کے لئے موت سے کھیلتے رہے اور اس کے بعد ہر جنگ کے میدان میں اور ہر مجاہدہ کے میدان میں انہوں نے خلوص۔نیک نیتی اور اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبت کے تعلقات کا مظاہرہ کیا۔دیکھنے میں ان لوگوں کی قربانیوں کا مجموعہ ظاہری طور پر اس قربانی سے مختلف اور بڑا ہے جو شروع میں ہی پیش کی گئی اور پھر قربانی کا زمانہ ختم ہوگیا اور جزاء کا زمانہ شروع ہو گیا۔لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جن لوگوں کی قربانیوں کا زمانہ ابتدائے اسلام ہی میں ختم ہو گیا ان کی جزاء ان لوگوں کی جزاء سے کم ہوگی جن کی قربانیوں کا زمانہ لمبا ہوگیا کیونکہ جن کی قربانیوں کا زمانہ ابتدائے اسلام ہی میں ختم ہوا ان کی نیت اور ان کا اخلاص اس بات کا تقاضا نہیں کرتا تھا کہ وہ محدود عرصہ تک قربانی دیں اور پھر خدا تعالیٰ سے غفلت برتنے لگ جائیں اور محمد رسول اللہ ﷺ سے دوری کی راہ کو اختیار کریں۔ان کے دل میں یہی تڑپ تھی کہ وہ اپنی زندگی کے آخری سانس تک اللہ کے لئے سانس لینے والے ہوں اور جب تک ان کے سانس میں سانس رہا وہ اپنی نیت کے مطابق قربانیاں دیتے چلے گئے۔اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل مصلحت سے ان