نظام وصیت

by Other Authors

Page 146 of 260

نظام وصیت — Page 146

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 146 لحاظ سے ایسی قربانی کرتا ہے جو اس احمدی میں اور ایسے احمدی میں جو باقی بہت سارے ہیں جنہوں نے وصیت نہیں کی ، ان کے درمیان ما بہ الامتیاز پیدا کرتا ہے۔۔ایک عورت کی وصیت میرے سامنے آئی کہ اس کا حصہ آمد بشرح چندہ عام واجب الادا ہے، وہ اس نے نہیں دیا کیونکہ اس کی آمد ہی کوئی نہیں اور حصہ جائیداد اس کے ذمے ہی کوئی نہیں کیونکہ اس کی جائیداد ہی کوئی نہیں۔وہ وصیت کس کام کی؟ وہ اس گروہ میں کیسے شامل ہو گئی جس کا ذکر اس کتاب الوصیت کے اندر ہے۔اس واسطے ان کی ڈرافٹنگ میں غلطی ہوگئی ہوگی۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ جو شخص یہ خواہش رکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو وحی کے ذریعے جو ایک عظیم نظام کی اطلاع دی گئی اس کے جو اصول ہیں ان پر وہ کار بند ر ہے ، اس پر کار بند رہنے کی کوشش کرے اور کوئی رعایت نہ مانگے۔کیونکہ اصولاً کوئی رعایت دی نہیں جاسکتی۔66 رپورٹ مجلس مشاورت 1981ء صفحہ 133 موصی کی تمام صلاحیتوں کے اندر سے تقویٰ پھوٹ پھوٹ کے نکل رہا ہو ہر احمدی کو متقی بننا چاہیے۔اور ہر موصی کو نمایاں طور پر تقویٰ کی جو ظاہری شکل ہے اس کا ثبوت دینا چاہیے مثلاً میں نے ابھی سوچا کہ اگر کوئی ایسا آدمی میرے دماغ میں آئے کہ اگر اس کے پاس دھیلا بھی نہ ہوتا تو وہ بہشتی مقبرہ میں جانے کا (یعنی اگر مجھ سے رائے لی جاتی تو میں کہتا ) حقدار ہے تیسری شرط کے مطابق۔وہ ہمارے نذیر احمد علی صاحب تھے جو افریقہ کے مبلغ تھے انہوں نے بڑی قربانی کی سر کے اوپر کتابیں لے کے اور گاؤں گاؤں گئے۔بالکل ابتدائی مبلغین میں سے ہیں۔بعض دفعہ ایک دن میں تین تین گاؤں میں گئے۔لوگ ان کو کہتے تھے یہاں سے چلے جاؤ۔ہم تمہاری بات سننا نہیں چاہتے اور پھر شام کے قریب جس گاؤں میں جاتے وہاں کوئی خدا کا نیک دل بندہ کہتا ٹھہر جاؤ۔پھر وہ باتیں سنتا اور اس طرح وہاں جماعت قائم ہو جاتی۔ان کے جو دل کی کیفیت ہے وہ میں اب بتاؤں گا۔وہ تو بڑے پیار سے کام کر رہے تھے خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کا