نظام وصیت

by Other Authors

Page 3 of 260

نظام وصیت — Page 3

3 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ ایک مثالی قبرستان کی تجویز میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے لیے ایک زمین تلاش کی جاوے جو قبرستان ہو۔یادگار ہو اور عبرت کا مقام ہو۔قبروں پر جانے کی ابتدا آنحضرت ﷺ نے مخالفت کی تھی جب بت پرستی کا زور تھا۔آخر میں اجازت دے دی۔مگر عام قبروں پر جا کر کیا اثر ہو گا جن کو جانتے ہی نہیں لیکن جو دوست ہیں اور پار سا طبع ہیں ان کی قبریں دیکھ کر دل نرم ہوتا ہے۔اس لیے اس قبرستان میں ہمارا ہر دوست جو فوت ہو اس کی قبر ہو۔میرے دل میں خدا تعالیٰ نے پختہ طور پر ڈال دیا ہے کہ ایسا ہی ہو۔جو خار جا مخلص ہوا اور وہ فوت ہو جاوے اور اس کا ارادہ ہو کہ اس قبرستان میں دفن ہو۔وہ صندوق میں دفن کر کے یہاں لایا جاوے۔اس جماعت کو بہ ہیئت مجموعی دیکھنا مفید ہوگا۔اس کے لیے اوّل کوئی زمین لینی چاہیے اور میں چاہتا ہوں کہ باغ کے قریب ہو۔فرمایا: عجیب مؤثر نظارہ ہوگا جو زندگی میں ایک جماعت تھے مرنے کے بعد بھی ایک جماعت ہی نظر آئے گی۔یہ بہت ہی خوب ہے۔جو پسند کریں وہ پہلے سے بندو بست کر سکتے ہیں کہ یہاں دفن ہوں۔جو لوگ صالح معلوم ہوں ان کی قبریں دور نہ ہوں۔ریل نے آسانی کا سامان کر دیا ہے اور اصل تو یہ ہے مَاتَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ اَرْضِ تَمُوتُ (لقمان: 35) مگر اس میں کیا لطیف نکتہ ہے کہ بِأَيِّ أَرضِ تُدُ فَنُ نہیں لکھا۔صلحاء کے پہلو میں دفن بھی ایک نعمت ہے۔حضرت عمرہ کے متعلق لکھا ہے کہ مرض الموت میں انہوں نے حضرت عائشہ سے کہلا بھیجا کہ آنحضرت ﷺ کے پہلو میں جو جگہ ہے انہیں دی جاوے۔حضرت عائشہ نے سے کام لے کر وہ جگہ ان کو دیدی تو فرمایا مَا بَقِيَ لِى هَـمْ بَعْدَ ذالك یعنی اس کے بعد اب مجھے کوئی غم نہیں۔جبکہ میں آنحضرت ﷺ کے روضہ میں مدفون ہوں۔مجاورت بھی خوشحالی کا موجب ہوتی ہے۔میں اس کو پسند کرتا ہوں۔اور یہ بدعت نہیں کہ قبروں پر کتبے لگائے جاویں۔اس سے عبرت ہوتی ہے اور ہر کتبہ جماعت کی تاریخ ہوتی ہے۔ہماری نصیحت یہ ہے کہ ایک طرح سے ہر شخص گور کے کنارے ہے کسی کو موت کی اطلاع مل گئی اور کسی کو اچھا نمک آجاتی ہے