نظام وصیت

by Other Authors

Page 137 of 260

نظام وصیت — Page 137

137 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ اللہ آپ سے راضی ہو) نے یہ فیصلہ کیا ہو کہ بغیر کسی قربانی کے اس کو منظور کر لیا جائے۔مجھے یہ شبہ ہے، میں نے وصیتوں کے کاغذات منگوائے تھے لیکن اس وقت ان کو پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔میں نے مستورات کی وہ وصیتیں بہت ساری جو میرے سامنے کا غذ آئے تھے منگوا لئے تھے لیکن اب تو وقت نہیں رہا۔رات کو اگر آ جاتے تو میں رات کو دیکھ لیتا۔بہر حال ایک یہ تو ہم کر سکتے ہیں کہ میاں اور بیوی دونوں مل کر ہم ایک یونٹ سمجھ لیں ایک خاوند ہے وہ دو ہزار روپے کما رہا ہے، ایک بیوی ہے وہ ایک دھیلہ نہیں کما رہی۔وہ اس دو ہزار میں سے ڈیڑھ ہزار روپیہ آ کے بیوی کو دے رہا ہے۔اس دو ہزار میں سے اگر ۱/۱۰ کی وصیت ہے تو کم از کم ۲۰۰ روپیہ وصیت میں دے رہا ہے۔تو وہ خاندان جس کے سربراہ دو ہیں باپ اور ماں اس خاندان کے۔ان کی آمد میں سے ۲۰۰ روپیہ نکل رہا ہے اور وہ دونوں share کر رہے ہیں۔بیوی کمانہیں رہی لیکن خاوند کی کمائی میں حصہ دار تو ہے جو اثر دو سور و پیہ وصیت کا چندہ دینے سے خاوند پر پڑ رہا ہے وہی اس کی بیوی پر پڑ رہا ہے۔ان کے خرچ میں سے ۲۰۰ روپیہ کم ہو گیا ناں اپنے ذاتی خرچ میں سے۔اُس عورت کے متعلق اگر یہ ہو کہ اس کی کوئی آمد نہیں اور میاں کی آمد دو ہزار میں سے ۲۰۰ روپیہ وہ دے رہا ہے تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ مال والے حصہ میں اس نے بھی قربانی کی ہے یا اس کا میاں ۲۰۰ روپیہ دے کر اس کی مالی حالت کو ۲۰۰ روپیہ تک کم کر رہا ہے۔جو قوت خرید ہے اس کو ۲۰۰ روپیہ تک کم کر دیا نا اور وہ اس کے علاوہ اور وہ دین میں حصہ لیتی ہے، قرآن کریم پڑھتی پڑھاتی بچوں کی تربیت کر رہی ہے یہ اس کی Contribution ہے دوسروں سے زیادہ۔تو یہ ٹھیک ہے۔لیکن مجھے شبہ ہے کہ بعض ایسی وصیتیں ہیں کہ کمانے والے باپ نے وصیت ہی نہیں کی کیونکہ اس کو دینا پڑتا تھا مال، اور بیوی کی وصیت کر وادی آرام سے۔ایسا ظلم ! اور ہم نے اس کو منظور کر لیا۔اس واسطے اس میں میں تو بڑا فکر مند ہو گیا ہوں کہ ہم سے بڑا سخت گناہ ہوا ہے۔نظامِ وصیت کو ہم مذاق تو نہیں بناسکتے۔بڑی اہمیتوں کا مالک ہے یہ نظام، بڑے دور رس نتائج پر منتج ہونے والا ہے یہ نظام۔