نظام وصیت — Page 107
107 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ نازل ہورہی ہیں۔وہ نازل ہوتی چلی جائیں گی۔دیکھ صحابہ اس نکتہ کو سمجھتے تھے چنانچہ نماز اور دعا تو الگ رہی۔وہ اس مقام سے بھی برکت ڈھونڈتے تھے۔جہاں رسول کریم ﷺ نے کبھی پیشاب کیا ہو۔حضرت عبداللہ بن عمر جب بھی حج کے لئے جاتے۔تو ایک مقام پر وہ خاص طور پر تھوڑی دیر کے لئے قافلہ کو ٹھہراتے اور پیشاب کیلئے بیٹھ جاتے۔انہوں نے دو تین حج کئے تھے۔ایک صحابی کہتے ہیں۔میں نے ایک دفعہ دیکھا تو جہاں وہ پیشاب کے لئے بیٹھے تھے وہ جگہ بالکل خشک تھی۔میں نے ان سے کہا کہ آپ نے ہمارا اتنا حرج کیا۔اگر آپ کو پیشاب آیا نہیں تھا تو آپ نے قافلہ کو ٹھہرایا کیوں۔آپ یہاں بیٹھے کس لئے وہ کہنے لگے یہ بات نہیں اصل بات یہ ہے کہ جب رسول کریم ہے نے حج کیا تو میں نے دیکھا کہ اس مقام پر رسول کریم ﷺ نے پیشاب کیا تھا۔پس میں جب بھی یہاں سے گزرتا ہوں میں کہتا ہوں کہ موقعہ جانے نہ پائے اور خواہ مجھے پیشاب آیا ہو یا نہ آیا ہو میں یہاں تھوڑی دیر کے لئے برکت حاصل کرنے کے لئے بیٹھ جاتا ہوں۔تو صحابہ یہ سمجھتے تھے، کہ رسول کریم ﷺ کی ہر کام میں نقل ان کے لئے برکت کا موجب ہے۔اور درحقیقت یہ بات ہے بھی درست جہاں رسول کریم ﷺ کھڑے ہوئے جہاں رسول کریم ﷺے بیٹھے اور جہاں رسول کریم ﷺ نے کام کئے وہاں برکتیں ہی برکتیں ہیں۔دیکھو آپ لوگ ہمیشہ حضرت مسیح موعود کا یہ الہام پیش کیا کرتے ہیں کہ ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ حضرت مسیح موعود کے جسم سے آپ کے کپڑے لگے۔اور وہ بابرکت ہو گئے۔پھر اگر کسی زمین پر کوئی مقدس انسان رہے تو وہ کیوں بابرکت نہیں ہوگی حقیقت یہ ہے کہ روحانی دنیا میں اس کی اتنی مثالیں موجود ہیں کہ یہ سوال ہر شخص کو خود ہی سمجھ لینا چاہئے تھا اور اس بارہ میں کسی سوال کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرنی چاہئے تھی۔روزنامه الفضل 7 دسمبر 1960 ، صفحہ 2 ،3