نظام وصیت — Page 101
101 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ۔۔۔۔۔۔زندہ خدا کا ثبوت دنیا کی ساری دولت احمدیت کے قدموں میں جمع ہو جائے گی (فرمودہ 29 جون 1956ء) سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- آج میں اس مضمون پر خطبہ دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے نشانات ہمیشہ دکھاتا چلا آیا ہے اور دکھاتا چلا جائے گا۔ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔وہ آدم کے زمانہ میں زندہ تھا۔وہ نواح کے زمانہ میں بھی زندہ تھا۔وہ ابراہیم کے زمانہ میں بھی زندہ تھا۔وہ موسٰی کے زمانہ میں بھی زندہ تھا۔وہ عیسی کے زمانہ میں بھی زندہ تھا۔وہ محمد رسول ﷺ کے زمانہ میں بھی زندہ تھا اور وہ آج بھی زندہ ہے۔اور اگر دنیا اور ہزار سال تک قائم رہے گی۔تو ہزار سال تک اور اگر ایک کروڑ سال تک قائم رہے گی تو کروڑ سال تک اور اگر ایک ارب سال تک قائم رہے گی تو ایک ارب سال تک وہ اپنی زندگی کے نشانات دکھاتا چلا جائے گا کیونکہ وہ ”حی و قیوم خدا ہے اور وہ لا تأخذه سنة ولا نوم كا مصداق ہے۔اس پر جب اونگھ اور نیند بھی نہیں آتی۔تو اس کے زندہ نشانات کا سلسلہ کس طرح ختم ہو سکتا ہے۔جب ایسے خدا سے انسان اپنا تعلق پیدا کر لیتا ہے۔تو اس کی ساری ضرورتوں کا وہ آپ کفیل ہو جاتا ہے۔اور ہمیشہ اس کی تائید کیلئے اپنے غیر معمولی نشانات ظاہر کرتا ہے زمانے ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں اور بدلتے چلے جائیں گے۔ایک زمانہ میں لوگ اربوں ارب روپیہ دیں گے اور انہیں پتہ بھی نہیں لگے گا کہ ان کے مال میں سے کچھ کم ہوا ہے۔کیونکہ دینے والے کھرب پتی ہوں گے اور جب وہ ہیں یا تیں یا پچاس ارب روپیہ دیں گے تو انہیں پتہ بھی نہیں لگے گا کہ اُن کے خزانہ میں کوئی کمی آئی ہے اس وقت انہیں یاد بھی نہیں رہیگا کہ کسی زمانہ میں پچاس روپیہ کی بھی ضرورت ہوتی تھی۔تو ان کے لئے بھی دعا ئیں کرنی پڑتی تھیں۔تم تذکرہ پڑھو تو تمہیں اس میں یہ لکھا ہوا دکھائی دے گا کہ ایک دفعہ ہمیں پچاس روپیہ کی ضرورت