نظام وصیت

by Other Authors

Page 100 of 260

نظام وصیت — Page 100

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 100 اس چندہ خاص سے بھی جماعت قربانی کے ادنی درجہ تک نہیں پہنچ سکتی۔اور حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔جو وصیت نہیں کرتا وہ نفاق سے پاک نہیں۔پس یہ جسے چندہ خاص کہا جاتا ہے دراصل اسے چندہ خاص نہیں کہنا چاہیے کیونکہ یہ وصیت کے ادنیٰ معیار تک پہنچاتا ہے۔اور جو وصیت کر چکے ہیں۔انہیں اس معیار سے اوپر لے جاتا ہے۔اور ان کا حق بھی ہے کہ اوپر جائیں۔الفضل 30 مارچ 1926 نمبر 98 جلد 13 صفحہ 8 چاہیے کہ جماعت کا ہر فر دوصیت کر دے اس وقت میرے نزدیک کم سے کم تحریک یہ ہونی چاہیے کہ جماعت کا ہر فر دوصیت کر دے۔دنیا میں ہر چیز کے مظاہرے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ہمارے ہاتھ سے قادیان نکل جانے کی وجہ سے دشمن کی نظریں اس وقت خاص طور پر اس امر کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ بہشتی مقبرہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔جس کے لئے یہ لوگ وصیت کیا کرتے تھے۔اب ہم دیکھیں گے کہ یہ لوگ کیسے وصیت کرتے ہیں۔اس اعتراض کو رد کرنے کا ہمارے پاس ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہر احمدی وصیت کر دے اور دنیا کو بتا دے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے وعدوں پر جو ایمان اور یقین حاصل ہے وہ قادیان کے ہمارے ہاتھ سے نکلنے یا نہ نکلنے سے وابستہ نہیں۔بلکہ ہم ہر حالت میں اپنے ایمان پر قائم رہنے والے ہیں۔یہ کم سے کم مظاہرہ ایمان ہے۔جس کی اس وقت تم سے امید کی جاتی ہے۔پس جو شخص ساڑھے سولہ فیصدی بھی نہیں دے سکتا۔میں سمجھتا ہوں اُس کے لئے کم از کم اس قدر ایمان کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے کہ وہ وصیت کر دے اور کوشش کرے کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے جس نے وصیت نہ کی ہو۔اگر اس تحریک کو پورے زور سے جاری رکھا جائے تو دشمن کا منہ خود بخود بند ہو جائے گا اور وہ سمجھے گا کہ ان لوگوں میں ایمان کی سچی حلاوت پائی جاتی ہے۔پس ہر شخص کو چاہیے کہ وہ وصیت کر دے اور اس طرح دنیا کو بتا دے کہ قادیان کے نکلنے سے ہمارا ایمان کمزور نہیں ہوا بلکہ ہم اپنے ایمان میں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ مقبرہ بہشتی کے وعدے دنیا کے ہر گوشہ میں ہم کو ملتے رہیں گے۔روزنامه الفضل 5 جون 1948 صفحہ 5