نظام وصیت

by Other Authors

Page 96 of 260

نظام وصیت — Page 96

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 96 جنَّةُ أزلفت کا صحیح ترجمه وصیت ہی ہے : تیسرے وصیت کا مسئلہ ہے۔یہ خدا نے ہمارے لئے ایک نہایت ہی اہم چیز رکھی ہے اور اس ذریعہ سے جنت کو ہمارے قریب کر دیا ہے۔پس وہ لوگ جن کے دل میں ایمان اور اخلاص تو ہے مگر وہ وصیت کے بارہ میں سنتی دکھلا رہے ہیں، میں انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ وصیت کی طرف جلدی بڑھیں۔انہی بستیوں کی وجہ سے دیکھا جاتا ہے کہ بڑے بڑے مخلص فوت ہو جاتے ہیں۔ان کے آج کل کرتے کرتے موت آجاتی ہے پھر دل کڑھتا ہے اور حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش یہ بھی مخلصین کے ساتھ دفن کئے جاتے مگر دفن نہیں کئے جاسکتے۔سب کے دل ان کی موت پر محسوس کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ مخلص تھے اور اس قابل تھے کہ دوسرے مخلصین کے ساتھ دفن کئے جاتے مگر ان کی ذراسی غفلت اور ذراسی سستی اس امر میں حائل ہو جاتی ہے۔پھر بیسیوں ہماری جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دسویں حصہ سے زیادہ چندہ دیتے ہیں مگر وہ وصیت نہیں کرتے۔ایسے دوستوں کو بھی چاہیے کہ وصیت کر دیں بلکہ ایسے دوستوں کیلئے تو کوئی مشکل ہے ہی نہیں پھر کئی ایسے ہیں جو پانچ پیسے یا چھ پیسے فی روپیہ چندہ دے رہے ہوتے ہیں اور صرف دمڑی یا دھیلا انہیں وصیت سے محروم کر رہا ہوتا ہے۔غرض تھوڑے تھوڑے پیسوں کے فرق کی وجہ سے ہماری جماعت کے ہزار ہا آدمی وصیت سے محروم ہیں اور جنت کے قریب ہوتے ہوئے اس میں داخل نہیں ہوتے۔پھر بعض لوگ مرض الموت میں وصیت کر دیتے ہیں حالانکہ یہ وصیت منظور نہیں ہوتی۔رسول کریم علیہ نے اسے ناپسند فرمایا ہے۔وصیت وہی ہے جو حیات اور زندگی میں کی جائے اور غیر مشتبہ ہو۔پس دوستوں کو چاہیے کہ جو وصیت کے برابر چندہ دیتے ہیں اور ایسے سینکڑوں آدمی ہیں وہ حساب لگا کر وصیت کر دیں۔بعض اگر غور کریں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ صرف ایک پیسہ زیادہ چندہ دینے سے ان کے لئے جنت کا وعدہ ہو جاتا ہے۔پس جس قدر ہو سکے دوستوں کو چاہیے کہ وہ وصیت کریں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وصیت کرنے سے ایمانی ترقی ضرور ہوتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس زمین میں متقی کو دفن کرے گا تو جو شخص