نظام وصیت

by Other Authors

Page 95 of 260

نظام وصیت — Page 95

95 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کمزوریاں بھی پائی جاتی ہوں تو جب وہ وصیت کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدہ کے مطابق کہ بہشتی مقبرہ میں صرف جنتی ہی مدفون ہوں گے ، اس کے اعمال کو درست کر دیتا ہے۔پس وصیت اصلاح نفس کا زبر دست ذریعہ ہے کیونکہ جو بھی وصیت کرے گا اگر وہ ایک وقت میں جنتی نہیں تو بھی وہ جنتی بنا دیا جائے گا اور اگر اعمال اس کے زیادہ خراب ہیں تو خدا اس کے نفاق کو ظاہر کر کے اسے وصیت سے الگ کر دے گا۔غرض وصیت کرنے والے کو یا تو اللہ تعالیٰ اصلاح نفس کی توفیق دے کر جنتی بنادے گا یا اسے وصیت سے الگ کر کے اس کے نفاق کو ظاہر کر دے گا۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ادنیٰ سے ادنیٰ قربانی کا درجہ جو حضرت مسیح موعود نے رکھا ہے یعنی دسواں حصہ، جماعت کا معتدبہ حصہ اس میں بھی حصہ نہیں لیتا حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت وصیت کی طرف توجہ کرے تو ایک کثیر حصہ بخوبی وصیت کر سکتا ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ لوگ توجہ نہیں کرتے۔اب ہمارا سلسلہ خدا کے فضل سے اس مقام تک پہنچا ہوا ہے کہ بہت سی روکیں ہمارے راستہ سے دور ہو گئی ہیں اور کروڑوں آدمی ایسے ہیں جو مانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود بچے تھے۔مگر ضرورت یہ ہے کہ ہم ان کے پاس پہنچیں اور انہیں سلسلہ میں داخل کریں۔مگر ابھی سامان ہمارے پاس ایسے نہیں۔جاہلوں کو جانے دو تم سمجھدار لوگوں سے بات کرو، فورا تمہیں محسوس ہوگا کہ ان کے دل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے قائل ہیں۔ضرورت ہے کہ ان کے پاس پہنچا جائے مگر اس کے لئے تبلیغی وسعت کی ضرورت ہوگی اور یہ وسعت پھر سرمایا چاہتی ہے۔اسی طرح سینکڑوں ممالک کے لوگ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی ہمارا مبلغ جائے ، مگر ہم نہیں بھیج سکتے۔گویا ایک زمانہ تو ایسا تھا کہ جب ہم لوگوں کو اپنی باتیں سنانا چاہتے تھے اور وہ سنتے نہیں تھے یا اب یہ حالت ہے کہ لوگ ہماری باتیں سننا چاہتے ہیں اور ہم سنا نہیں سکتے۔اس روک کو دور کرنا ہمارا فرض ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر دوست وصیت کی طرف توجہ کریں تو یہ روک اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت جلد دور ہو سکتی ہے۔