نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 129

نظام نو — Page 85

نے بنیوں سے سُنا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سونے کی قیمت سو روپیہ تک لے جانی ہے۔مگر اسلام کہتا ہے تم اول تو روپیہ جمع نہ کرو اور اگر جمع کرو تو اس پر اڑھائی فیصدی ہمارا ٹیکس دو۔اسطرح اسلام جمع شدہ روپیہ پھر قوم کے غرباء کی طرف واپس لاتا ہے۔تا کہ وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور وہ مجبور کرتا ہے کہ لوگ اپنے روپیہ کو پھیلائیں اور پھیلاتے چلے جائیں۔اگر اسلام کے احکام پر عمل ہونے لگے تو بخیل سے بخیل شخص کے روپیہ سے بھی دنیا فائدہ اٹھانے لگ جائے اور غریبوں کو مزدوری و غیر ہل جائے اور اڑھائی فیصدی روپیہ الگ آجائے۔اسلام میں شخصی ملکیت کے حق کا تحفظ مگر یہ یا درکھنا چاہیئے کہ اسلام نے باوجود مال کو سب کا حق قرار دینے کے شخصی ملکیت کے حق کو رد نہیں کیا بلکہ اسے قائم رکھا ہے البتہ شخصی مالک بطور ایجنٹ کے رہیگا اور علاوہ اس کے اس طاقت کو جو اُسے ملکیت کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے اسلام نے مناسب تدبیروں سے کمزور کیا ہے جیسا کہ اوپر کے احکام سے ظاہر ہے۔بالشویک نظام پر اسلامی نظام کو ترجیح دیئے جانے کی وجوہات اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں اس نظام پر بالشویک نظام کو ترجیح نہ دی جائے۔اسکا جواب یہ ہے کہ نظام کی اصل غرض امن اور انصاف اور روح ترقی کا قائم رکھنا ہوتی ہے مگر بالشویک نظام حالات میں ایسا فوری تغیر پیدا کرتا ہے جو ملک کے ایک طاقتور حصہ کو نا قابل برداشت نقصان پہنچا دیتا ہے اور وہ مقابلہ کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔مثلاً یہ کہنا کہ ہر ایک مالدار کا مکان لے لو، اس کی جائیداد اس سے چھین لو، اس کے مال کو ضبط کر لو یہ انسان کو ایسا صدمہ پہنچاتا ہے جو اس کیلئے ایک نا قابل برداشت بوجھ بن جاتا ہے۔چنانچہ روس کی سب سے زیادہ مخالفت خود روسی کر رہے ہیں اور ہر ملک میں ایسے روسی موجود ہیں جو اس نظام کے شدید ترین مخالف 85