نظام نو — Page 52
دوسرے اس مذہب میں ورنوں کا اصول ہے جس کے ماتحت براہمن کے کام شودر نہیں کر سکتا اور شودر کے کام ویش نہیں کر سکتا۔اسی طرح ویش کے کام کشتر کی نہیں کرسکتا۔گویا ہر ایک کا الگ الگ دائرہ عمل ہے اور ایک شخص دوسرے کے دائرہ عمل میں دخل نہیں دے سکتا۔یہ اصول بھی ایسا ہے جس کے ماتحت امیر اور غریب کا امتیاز کبھی مٹ نہیں سکتا کیونکہ نیا نظام جو اس امتیاز کو دور کرے وہ وہی ہو سکتا ہے جس میں ایک غریب اور کنگال کا بھی خیال رکھا جائے۔اگر کوئی چوہڑہ یا ساہنسی ہو تو اس کے حقوق کو بھی محفوظ کیا جائے اور ہر شخص کے لئے گورنمنٹ کھانے اور کپڑے کا انتظام کرے۔اسی طرح غرباء کے لئے مال کا انتظام کرے تا کہ وہ اپنی اور ضروریات پوری کر سکیں۔مگر منو کہتے ہیں کہ :- اگر شودر دھن جمع کرے تو راجہ کا فرض ہے کہ وہ اس سے چھین لے کیونکہ شودر مالدار ہو کر √۔۔برہمنوں کو دکھ دیتا ہے۔اس قانون کے ماتحت اگر برہمن یا ولیش کے پاس دس لاکھ روپیہ ہو اور شودر کو خیال آئے کہ پانچ روپیہ ماہوار میں بھی جمع کرلوں اگلے سال بچی کی شادی ہے اُسوقت یہ روپیہ کام آئیگا تو راجہ کا فرض ہے کہ وہ اس سے تمام روپیہ چھین لے کیونکہ وہ شودر ہے اور شودر کا حق نہیں کہ اس کے پاس روپیہ جمع ہو۔اب بتاؤ اس اصول کے ماتحت نیا نظام کس طرح قائم ہوسکتا ہے اور اگر یہ نظام قائم ہو تو اس کے ماتحت غرباء کی حالت کس طرح سدھر سکتی ہے۔اسی طرح لکھا ہیکہ :۔اگر برہمن نے ایک نیچ سے قرض لیا لیکن وہ ادا نہیں کر سکتا تو شودر کا فرض ہے کہ وہ براہمن سے کوئی روپیہ نہ لے لیکن اگر شودر نے براہمن کا روپیہ دینا ہواور شودرغریب ہو تو اونچی ذات والوں کی مزدوری کر کے براہمن کے قرض کو ادا کرے هاے ، گویا اگر برہمن قرض لینے والا ہو اور جس سے قرض لیا گیا ہو وہ نیچ قوم سے تعلق رکھتا ہو تو اگر وہ قرض ادا نہیں کر سکتا تو بیچ قوم والے کا فرض ہے کہ برہمن سے اپنے روپیہ کا تقاضہ نہ کرے۔ایسی صورت میں وہ یہ نہیں کر 52