نظام نو — Page 45
خیال سے کہ اب مقابلہ کرنے والا تو کوئی ہے نہیں لگے ہاتھوں بالشوزم کا بھی خاتمہ کر دیں اس نے روس پر حملہ کر دیا نتیجہ یہ ہوا کہ بالشوزم بر سر اقتدار (اتحادی ) حکومتوں سے مل گئی اور اب دو تحریکیں ایک طرف ہیں اور ایک تحریک ایک طرف۔اگر نیشنلسٹ سوشلزم والے جیتے تو جرمن ، اٹلی، ہسپانیہ اور جاپان کے غرباء کو تو ضرور فائدہ پہنچے گا۔مگر باقی اقوام کے غرباء کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو جائیگی۔گویا چار ملکوں سے غربت مٹے گی اور سینکڑوں ملکوں میں پہلے سے بھی زیادہ قائم ہو جائیگی اور اگر دوسرا فریق جیتا تو دنیا کا کچھ حصہ سوشلزم کے اثر کے ماتحت نسبتی سیاسی آزادی حاصل کر لیگا، کچھ حقوق ہندوستان کو بھی مل جائیں گے لیکن جہاں تک تجارتی اور اقتصادی آزادی کا سوال ہے اس کے لئے ان ممالک کو لمبی جدو جہد کرنی پڑیگی کیونکہ اس آزادی میں روک نہ صرف قدامت پسند اور لبرل جماعتیں ہونگی بلکہ معاشرتی معیار کے گر جانے کے ڈر سے سوشلسٹ جماعتوں سے بھی دوسرے ممالک کا مقابلہ ہوتار ہیگا مگر جہاں تک نسبت کا سوال ہے ان لوگوں کے جیتنے سے دوسرے ممالک کی حالت یقیناً اس سے زیادہ اچھی ہوگی جو نیشنل سوشلسٹ کے غلبہ کی صورت میں ہو سکتی ہے۔موجودہ جنگ میں انگریزوں کی فتح سے ہندوستان کا فائدہ اس بارہ میں میری جو کچھ رائے ہے۔اور جسے میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر جرمنی جیتا تو ہمارے ملک کی حالت پہلے سے بہت زیادہ خراب ہو جائے گی اور اگر انگریز جیتیں تو ہمارے ملک کی حالت پہلے سے یقیناً اچھی ہو جائیگی۔عام طور پر ہمارے ملک میں خیال کیا جاتا ہے کہ جب غلام ہی بننا ہے تو خواہ اسکے غلام بنے یا اُن کے اس میں فرق ہی کیا ہے مگر یہ بات درست نہیں۔اور اس کی تائید میں ایک بہت بڑی دلیل جس کو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں یہ ہیکہ یہ (اتحادی) طاقتیں بہت مدت تک اقتصادی اقتدار حاصل کرنے کی وجہ سے اب اُس قوت اقدام کو کھو بیٹھی ہیں جو لا زمانی بڑھنے والی قوموں میں پائی جاسکتی ہے۔پس نئی 45