نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 129

نظام نو — Page 38

میں کوئی ہرج نہ تھا مگر انہوں نے یکدم اُن کی دولت کولوٹ لیا اور وہ جو ہر وقت نوکروں کے جمگھٹے میں رہتے تھے انہیں اس سے محروم کر دیا۔گویا دوسرے لفظوں میں اُن کے ساتھ یہ سلوک کیا کہ انہیں محلات سے اٹھا کر چوہڑوں کے مکانوں میں بھیج دیا۔اس قسم کے تغیرات کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فساد شروع ہو جاتا ہے کیونکہ ہر تغیر سے پہلے اُس کے مناسب حال ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے اچھا باغبان جب کسی درخت کو اکھیڑتا ہے تو مناسب ماحول میں اُکھیڑتا اور مناسب ماحول میں ہی دوسری جگہ لگاتا ہے اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو وہ درخت کبھی پھل نہیں لاسکتا۔اس تحریک میں چونکہ اس اصل کو مد نظر نہیں رکھا گیا اس لئے نتیجہ یہ ہوا کہ پرانے اُمراء بھاگ بھاگ کر دوسرے ملکوں میں چلے گئے اور وہاں کے رہنے والوں کو روس کے خلاف اُکسانے لگ گئے۔کبھی امریکہ کو کبھی انگلستان کو اور کبھی فرانس کو تا کہ وہ ان ملکوں کو اُکسا کر روس کے خلاف کھڑا کر دیں اور اس طرح اگر وہ خود تباہ ہوئے ہیں تو روس بھی تباہ ہو جائے۔کمیونزم کا تیر القص یعنی مذہب کی مخالفت اور اسکا نتیجہ تیسر کے انہوں نے مذہب کی مخالفت کر کے سب مذہبی دنیا کو اپنا مخالف بنالیا ہے۔یہ لازمی بات ہے کہ جولوگ مذہب سے محبت رکھنے والے ہوں گے وہ اس تحریک کے کبھی حامی اور مؤید نہیں ہونگے۔کمیونزم کا چوتھا نقص یعنی ملک میں ڈکٹیٹری کی ترویج چوتھے انہوں نے ڈکٹیٹری کے لئے رستہ کھولا ہے۔بیشک یہ لوگ اصولاً اقتدار عوام کے حامی ہیں مگر جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں وہ شروع میں ہی یہ اقتدار عوام الناس کو سونپنے کیلئے تیار نہیں بلکہ کہتے ہیں ابتداء میں ڈکٹیٹر شپ ضروری چیز ہے مگر اس کی کوئی حد مقر ر ہیں۔لیٹن کے 38