نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 129

نظام نو — Page 13

کے لوگوں کی ہم نے اصلاح کر لی مگر فرانس کے لوگ پھر بھی بھوکے مرتے رہے تو ہمارے لئے کیا خوشی ہوسکتی ہے اس لئے مختلف ملکوں کے غرباء اور مزدوروں کو باہمی تعاون کا اقرار کرنا چاہئے۔بظاہر تو یہ کہا جاتا تھا کہ ہم اصلاح کے دائرہ کو وسیع کرتے ہیں مگر اصل بات یہ تھی کہ جب اس تحریک کے نتیجہ میں ایک ملک کے امراء کو نقصان پہنچا تو دوسرے ملک کے اُمراء اس وجہ سے کہ یہ تحریک ہمارے ملک میں نہ آجائے روپیہ سے اس تحریک کے مخالفوں کی مدد کیا کرتے تھے۔چنانچہ اس کے مقابل پر مزدوروں نے بھی فیصلہ کیا کہ مختلف ملکوں کے غرباء کو آپس میں تعاون کا اقرار کرنا چاہئے جب تک ایسا نہیں ہوگا کامیابی مشکل ہے۔اس طرح سوشل ازم کے بعد انٹر نیشنل سوشلزم کا آغاز ہوا۔یعنی مزدور اپنی اپنی جگہ کی ہی خبر نہ رکھیں بلکہ دوسری جگہوں کی بھی خبر رکھیں۔غرباء کی حالت سدھارنے کے متعلق کارل مارکس کے تین نظریے اس کے بعد ایک شخص کارل مارکس سے پیدا ہوا۔یہ جرمن یہودی النسل تھا مگر مذہب عیسائی تھا اس نے اس مسئلہ پر غور کیا اور غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ جوسوشل ازم کہ رہی ہے کہ آہستہ آہستہ اصلاح کی جائے اور امیروں پر دباؤ ڈال کر ان سے مزدوروں اور غرباء کے حق حاصل کئے جائیں اسطرح تو پچاس سو بلکہ ہزار سال میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔اصل خرابی یہ ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں حکومت ہے وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے پس اس کی اصلاح کا آسان طریق یہ ہے کہ حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی جائے چنانچہ وہ کہتا ہے یہ کیا طریق ہے کہ اگر حکومت کسی جگہ نہر نہیں نکالتی تو نہر کے لئے اس سے سو سال تک جنگ جاری رکھی جائے۔حکومت اپنے ہاتھ میں لے لو اور نہر نکال لو۔یا یہ کیا کہ فلاں کارخانہ میں چونکہ اصلاح نہیں اس لئے حکومت پر اُسکے متعلق زور دیا جائے اور برسوں اس پر ضائع کئے جائیں سیدھی بات یہ ہے کہ حکومت ہاتھ میں لو اور تمام مفاسد کا علاج کر لو۔پس مارکس نے یہ اصول رکھا کہ سیاسیات میں پڑے بغیر ہم تمدنی اصلاح نہیں کر سکتے۔جب تک سیاست ہاتھ میں نہ آجائے اور جب تک 13