نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 129

نظام نو — Page 97

انفرادی جد و جہد کو قائم رکھنے کا فائدہ پھر اس کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ جب انفرادی جد و جہد قائم رہے گی تو ہر شخص پوری محنت سے کام لیکر روپیہ کمانے کی کوشش کریگا۔ڈاکٹر اپنے مطب کو چلائے گا انجینئر اپنے فن میں کمال دکھلائیگا تاجر کارخانوں کو چلائیں گے اور اس طرح دماغ ترقی کرتا چلا جائے گا اور جب وہ اپنے پاس روپیہ جمع کر لیں گے تو پھر ترغیب و تحریص کے ذریعہ ان کا مال ان سے لے لیا جائے گا۔گویا بیک وقت دونوں فائدے حاصل ہوجائینگے دماغ کی بھی ترقی ہو جائیگی اور رو پید بھی مل جائیگا۔بالشویک تحریک میں یہ نقص ہے کہ اسکے نتیجہ میں دماغی قابلیتیں بالکل مردہ ہو جاتی ہیں اور جو کچھ روپیہ حاصل ہوتا ہے اسکے دیتے وقت بھی امرا کے دلوں میں غرباء کی کوئی محبت پیدا نہیں ہوتی کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم پر جبر اور ظلم کر کے یہ روپیہ لیا جا رہا ہے لیکن اگر ڈاکٹر کو کہا جائے کہ جاؤ اور خوب کما ؤ، وکیل کو کہا جائے کہ مقدمات لڑو اور خوب فیس وصول کرو، انجینئر کو کہا جائے کہ جاؤ اور انجینئر نگ کے فن میں کمال پیدا کر کے ہزاروں روپیہ کماؤ اور پھر جب وہ روپیہ کما چکیں تو انہیں اس بات کی تحریص دلائی جائے کہ وہ اپنا رو پیدا اپنے غریب بھائیوں کی ضرورتوں پر بھی خرچ کریں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خوشی سے ہزاروں روپیہ دینے کے لئے تیار ہو جائینگے انکی امنگیں بھی قائم رہیں گی اور انہیں ظلم کا احساس بھی نہ ہوگا بلکہ وہ دیتے وقت خوش ہونگے کہ انکا رو پیدا نکے غریب بھائیوں کے کام آنے لگا ہے پس ان کا زائد مال اگر ترغیب و تحریص سے لیا جائے تو عدل و انصاف بھی قائم ہوگا اور باہمی محبت بڑھانے کا بھی یہ ایک یقینی ذریعہ ہو جائیگا۔جبری طور پر دوسروں کے اموال پر جبر اقبضہ کر نیکے نقصانات اسکے مقابلہ میں جس شخص سے جبراً حکومت مال لے لے تم سمجھ سکتے ہو اسکے دل میں 97