نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 92 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 92

خلیفہ راشد کا مقام اور مرتبہ روحانی دنیا میں سب سے اعلیٰ وارفع اور بڑا مقام نبی اور رسول کا ہوتا ہے۔خلیفہ چونکہ نبی کا جانشین اور قائمقام ہوتا ہے اور نبی کے انوار و برکات خلیفہ میں منعکس ہوتے ہیں اور خلیفہ کا وہی کام ہوتا ہے۔جو نبی کا ہوتا ہے۔لہذا نبی کے بعد خلیفہ کا مقام ہوتا ہے۔حضرت سید شاہ اسمعیل شہید علیہ الرحمۃ نے اپنی مشہور کتاب ”منصب امامت“ میں خلافت راشدہ کے مقام و مرتبہ کے بارہ میں بحث فرمائی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔نکته دوم، خلیفہ راشد سایه رب العالمین، ہمسائیہ انبیاء مرسلین، سرمایہ ترقی دین اور ہم پائیہ ملائکہ مقربین ہے۔دائرہ امکان کا مرکز ، تمام وجوہ سے باعث فخر اور ارباب عرفان کا افسر ہے افرا دانسی کا سردار ہے۔اس کا دل تجلی رحمان کا عرش اور اس کا سینہ رحمت وافرہ اور اقبال جلالت یزداں کا پر تو ہے۔اس کی مقبولیت جمال ربانی کا عکس ہے اس کو ہر تیغ قضا اور مہر عطیات کا منبع ہے اس سے اعراض، اعراض تقدیر اور اس کی مخالفت ، مخالفت رب قدیر ہے۔جو کمال اس کی خدمت گزاری میں صرف نہ ہو، خیال ہے پُر خلل اور جو علم اس کی تعظیم وتکریم میں مستعمل نہ ہوسراسر و ہم بال ومحال ہے۔جو صاحب کمال اس کے ساتھ اپنے کمال کا موازنہ کرے وہ مشارکت حق تعالیٰ پر مبنی ہے۔اہل کتاب کی علامت یہی ہے کہ اس کی خدمت میں مشغول اور اس کی اطاعت میں مبذول رہیں۔اس کی ہمسری کے دعوی سے دستبردار رہیں اور اسے