نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 90 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 90

۶۹ اسی طرح حضور نے ایک دوسرے موقعہ پر فرمایا:۔اور اس بات کو ہمیشہ زیر نظر رکھیں کہ اگر ذرا بھی تفرقہ پیدا ہوا تو ہماری ہوا بگڑ جائے گی اور پھر ہم سے زیادہ حرماں نصیب اور کوئی نہ ہوگا جو دنیا سے تو یوں گئے کہ ایک مامور پر ایمان لائے ، دوسرے مسلمانوں سے یوں تعلقات منقطع کئے کہ نہ تو ان کے ساتھ مل کر عبادت کر سکتے ہیں نہ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ایک غیر احمدی خواہ کس قدر ہمارا دوست ہو، اس کے ساتھ تعلقات ہوں، راز و نیاز کی نشست و برخاست ہو، جونہی خالق کے حضور سر نیا زخم کرنے کا وقت آیا ہم الگ اور وہ الگ۔نہ ان کے ساتھ رشتے کر سکتے ہیں کیونکہ غیر احمدی کولڑ کی دینا منع ہے۔اب اگر ہم آپس میں بھی پورا اتحاد و اتفاق نہ رکھتے ہوں تو پھر سچ مچ ہم سے بدنصیب کوئی نہیں۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہر وقت شیرازہ قومی کو مستحکم رکھنے کی تدابیر سوچتے رہیں۔برداشت کا مادہ اپنے اندر پیدا کریں۔اگر ایک بھائی سے کچھ غلطی ہوتی ہے تو دوسرا اسے بنظر عفو دیکھے۔اختلاف رائے تو بری بات نہیں مگر عام قومی معاملات میں ہماری تمام رائیں اپنے امام کے سامنے ختم ہو جانی چاہئیں۔ہمیں ان کے حضور بڑھ بڑھ کر سوال کرنے کی ضرورت نہیں۔دراصل ایک امام رکھنے والی جماعت کو تو بہت سی سہولتیں ہوتی ہیں۔اس کے بہت سے کاموں کا بوجھ امیر کے سر پر ہوتا ہے۔جب وہ کسی بات کو ضروری سمجھے گا تو خود اس کی تحریک فرمائے گا۔ہمیں کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ اس میں دخل دیں۔(ماہنامہ خالد دسمبر ۱۹۶۵ء)