نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 89
۶۸ ہیں:۔خلافت اور وحدت و شیرازی بندی کے تعلق میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ”میرے نزدیک یہ مسئلہ اسلام کے ایک حصہ کی جان ہے۔مختلف حصوں میں مذاہب کا عملی کام منقسم ہوتا ہے۔یہ مسئلہ جس حصہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔وہ وحدت قومی ہے۔کوئی جماعت کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک ایک رنگ کی اس میں وحدت نہ پائی جائے۔مسلمانوں نے قومی لحاظ سے تنزل ہی اس وقت کیا ہے جب ان میں خلافت نہ رہی۔جب خلافت نہ رہی تو وحدت نہ رہی اور جب وحدت نہ رہی تو ترقی رک گئی اور تنزل شروع ہو گیا۔کیونکہ خلافت کے بغیر وحدت نہیں ہوسکتی اور وحدت کے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی۔تری وحدت کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے۔جب ایک ایسی رسی ہوتی ہے جو کسی قوم کو باندھے ہوئے ہوتی ہے تو س قوم کے کمزور بھی طاقتور کے ساتھ آگے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔دیکھو اگر شاہسوار کے ساتھ ایک چھوٹا لڑکا بٹھا کر باندھ دیا جائے تو لڑکا بھی اس جگہ پہنچ جائے گا جہاں شاہسوار کو پہنچنا ہوگا۔یہی حال قوم کا ہوتا ہے۔اگر وہ ایک رسی سے بندھی ہو تو اس کے کمزور افراد بھی ساتھ دوڑے جاتے ہیں لیکن جب رسی کھل جائے تو گو کچھ دیر تک طاقت ور دوڑتے رہتے ہیں لیکن کمزور پیچھے رہ جاتے ہیں اور آخر کار نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کئی طاقتور بھی پیچھے رہنے لگ جاتے ہیں کیونکہ کئی ایسے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں فلاں جو پیچھے رہ گئے ہیں ہم بھی رہ جائیں پھر ان لوگوں میں جو آگے بڑھنے کی طاقت رکھتے اور آگے بڑھتے ہیں چلنے کی قابلیت نہیں رہتی مگر قومی اتحاد ایسا ہوتا ہے کہ ساری قوم چٹان کی طرح مضبوط ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے کمزور بھی آگے بڑھتے جاتے ہیں۔( روزنامه الفضل ۱۳ نومبر ۱۹۶۵ء)