نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 69
۴۸ دیکھو ہم ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں مگر تم نے کبھی غور کیا کہ یہ تبلیغ کس طرح ہو رہی ہے؟ ایک مرکز ہے جس کے ماتحت وہ لوگ جن کے دلوں میں اسلام کا درد ہے اکٹھے ہو گئے ہیں اور اجتماعی طور پر اسلام کے غلبہ اور اس کے احیاء کے لئے کوشش کر رہے ہیں وہ بظاہر چند افراد نظر آتے ہیں مگر ان میں ایسی قوت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ بڑے بڑے اہم کام سرانجام دے سکتے ہیں جس طرح آسمان سے پانی قطروں کی صورت میں گرتا ہے پھر وہی قطرے دھاریں بن جاتی ہیں اور وہی دھاریں ایک بہنے والے دریا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔اس طرح ہمیں زیادہ قوت اور شوکت حاصل ہوتی چلی جارہی ہے۔اس کی وجہ محض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلافت کی نعمت عطا کی ہے“۔(روز نامہ الفضل ربوہ ۲۵ مارچ ۱۹۵۱ء) اسی طرح فرمایا:۔اسلام کبھی ترقی نہیں کر سکتا جب تک خلافت نہ ہو۔ہمیشہ اسلام نے خلفاء کے ذریعہ ترقی کی ہے اور آئندہ بھی اسی ذریعہ سے ترقی کرے گا“۔( درس القرآن از حضرت مصلح موعود مطبوعه ۱۹۲۱، ص۷۲) ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کا دن وہ تاریخی دن ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے مسیح محمدی کے ہاتھوں قائم ہونے والی جماعت احمدیہ کو خلافت کے انعام سے نوازا اور انہیں وہ وسیلہ فتح و ظفر عطا فرمایا جس کے ساتھ اسلام کی ترقی اور غلبہ وابستہ ہے۔آج اس انعام الہی پر ۹۸ برس کا عرصہ پورا ہو چکا ہے۔خدا گواہ ہے اور ہم اس کے حضور سجدات شکر بجالاتے ہوئے اس امر کا اقرار کرتے ہیں کہ ان ۹۸ سالوں کا ایک ایک دن اس بات پر گواہ ہے کہ خلافت حقہ اسلامیہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو وہ عظمت و تمکنت اور وہ عالمگیر ترقی عطا فرمائی ہے جو ایک جاری وساری زندہ و تابندہ معجزہ کا حکم رکھتی ہے۔