نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 68
۴۷ الغرض شاہراہ ترقی اسلام کا کوئی موڑ ایسا نہیں جس پر جماعت احمد یہ پوری شان کے ساتھ مصروف عمل نہ ہو۔اس شاہراہ کی کوئی بلند منزل ایسی نہیں جس پر اسلام کو دل وجان سے زیادہ عزیز رکھنے والے احمدی جان فروشوں کے قدموں کے نشانات نظر نہ آتے ہوں۔حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو یہ منفر داعزاز اور سعادت اس وجہ سے عطا فرمائی ہے کہ آج دنیا کے پردہ پر یہی ایک جماعت ہے جو الا وهــــــــ الْجَمَاعَةُ (ترمذی کتاب الایمان باب افتراق هذه الامة وابن ماجه كتاب الفتن باب افتراق الاسم کی حقیقی مصداق اور ایک واجب الاطاعت امام کے زیر سایہ بنیان مرصوص کا منظر پیش کرتی ہے۔یہی ایک جماعت ہے جس کو خلافت کی نعمت میسر ہے جو ایک روحانی سربراہ کی آواز پر اٹھنا اور اس کے اشارے پر بیٹھنا جانتی ہے۔ہاں ہاں یہ وہی جماعت ہے جس کا امام، جماعت کے افراد سے ماں سے بڑھ کر پیار کرنے والا ہے۔اور دوسری جماعت کے سب مرد و زن اپنے پیارے امام کے گرد پروانہ صف طواف کرنے والے ہیں۔خلافت کی نعمت نے انہیں ایک ہاتھ پر جمع کر کے یہ اعجاز بخشا ہے کہ ایک کروڑ احمدی فدائیوں نے خدمت و اشاعت اسلام کے سلسلہ میں وہ کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں جس کی توفیق ایک ارب سے زائد مسلمان کہلانے والوں کو نصیب نہ ہوسکی۔اس اعزاز اور سعادت کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو خلافت جیسی عظیم نعمت سے نوازا جس کے ساتھ اسلام کی ترقی وابستہ ہے جبکہ حق تو یہ ہے کہ اسلام کی خاطر کوشش اور قربانی کی توفیق کا ملنا بھی اس خلافت سے وابستہ ہے۔حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں۔