نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 64 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 64

۴۳ بنیاد رکھی۔سید نا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی روحانی بعثت ثانیہ کے طور پر مبعوث فرمایا اور امام مہدی اور مسیح موعود کا بلند منصب عطا فرمایا۔آپ کی آمد کا مقصد یحـى الـديـن و يقيم الشريعة کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔احیائے اسلام، قیام شریعت اور تکمیل اشاعت اسلام کے کام کو اس حد تک آگے بڑھانا کہ بالآخر عالمگیر غلبہ اسلام پر منتج ہوا بلا استثناء سب مفسرین قرآن کی اس آیت کریمہ پر متفق ہیں۔هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَلَوْ (سورة التوبه: ۳۳) كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ جس غلبہ اسلام بر ادیان باطلہ کی پیشگوئی کی گئی ہے یہ غلبہ اپنے پورے جلال اور پوری شان و شوکت کے ساتھ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وقت میں ظہور پذیر ہوگا۔ہیں:۔حضرت سید محمد اسماعیل شہید علیہ الرحمہ اپنی کتاب ” منصب امامت میں فرماتے ظہور دین کی ابتداء پیغمبر ﷺ کے زمانہ میں ہوئی اور اس کی تکمیل حضرت مہدی علیہ السلام کے ہاتھ سے ہوگی۔( منصب امامت ص ۷۶۔گیلانی پریس لاہور مطبوعہ ۲۹۴۹ء) خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں۔کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں تو حید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا“۔(الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ ص۳۰۶، ۳۰۷)