نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 63 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 63

۴۲ خلافت راشدہ کے اس پر شوکت دور کے بعد مسلمانوں کی ناشکری کے سبب خلافت کا انعام اپنی پہلی شکل میں قائم نہ رہا۔خلافت کی جگہ ملوکیت اور بادشاہت نے راہ پالی اور اس کے ساتھ ہی ان تمام برکات کی بھی صف لپیٹ دی گئی جو خلافت سے وابستہ ہوتی ہیں۔اکناف عالم میں اسلام کی جو ترقی اور غلبہ خلافت کے ذریعہ نصیب ہوا تھا، اس دور استبداد و ملوکیت میں اس کا سایہ کھیچنے لگا۔مسلمانوں کی عظمت نے ان کو خیر باد کہا۔ان کی شان وشوکت ان سے منہ موڑ کر رخصت ہو گئی۔مسلمانوں کی صفوں میں تفرقہ اور اختلاف اس حد تک بڑھ گیا کہ اتحاد و یگانگت کو یکسر بھلا کر باہم برسر پیکار ہو گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ قوم جس نے نبوت کے آفتاب اور خلافت کے ماہتاب سے منور ہو کر ترقی و عروج کی چوٹیوں کو پامال کیا تھا اب تنزل و انحطاط کے قعر مذلت میں جا پڑی۔اس دور کا ایک ایک دن اور ایک ایک رات اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ امت مسلمہ نے جو پایا تھاوہ خلافت کے طفیل پایا تھا ، اس خلافت کو چھوڑا ہے تو اب ان کی جھولی خالی ہوکر رہ گئی ہے۔خلافت راشدہ سے محرومی کے بعد مسلمانوں کی کسمپرسی کی یہ طویل رات کم و بیش ایک ہزار سال تک جاری رہی۔صادق و مصدوق عﷺ کی پیش خبری کے عین مطابق فیج اعوج کے اس زمانہ میں اسلام کی حالت ناگفتہ بہ ہوگئی۔ایمان ثریا پر جا پہنچا اور کیفیت یہ ہوگئی کہ رہا دین باقی نہ اسلام باقی اک اسلام کا رہ گیا نام باقی بالآخر اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور سچے وعدوں والے خدا نے اپنے وعدے کے مطابق اس دور آخرین میں ایک آسمانی مصلح کے ذریعہ احیائے اسلام کی