نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 60 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 60

۳۹ اسلام کی ترقی و عروج کا یہ وہ زمانہ تھا کہ کسی بڑے سے بڑے مخالف کو بھی اس کے مقابلہ کی تاب نہ تھی۔اسلام کی شان و شوکت اور مسلمانوں کے رعب ودبدبہ کا یہ عالم تھا کہ قیصر و کسریٰ کی عظیم الشان حکومتیں بھی ان کے نام سے لرزتی اور خم کھاتی تھیں۔حق یہ ہے کہ خلافت راشدہ کے اس سنہری دور میں اسلام کو وہ عظمت اور سر بلندی حاصل ہوئی کہ آج بھی جب کوئی انصاف پسند مؤرخ مڑ کر اس دور پر نظر کرتا ہے تو حیرت کی تصویر بن جاتا ہے۔اسے سمجھ نہیں آتی کہ صحرائے عرب کے بادیہ نشین فاتح اقوام عالم کیسے بن گئے؟ وہ نہیں جانتا کہ یہ سب خلافت راشدہ کا ثمرہ تھا۔وہ خلافت راشدہ جس کے ساتھ اسلام کے غلبہ کی تقدیر وابستہ ہے! خلافت راشدہ کے مبارک دور میں اسلام کی ترقی اور سر بلندی کا یہ مختصر تذکرہ مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ان فتنوں اور مسائل کا کچھ ذکر نہ کیا جائے جو خلافت راشدہ میں اور خاص طور پر اس کے آغاز کے موقعہ پر یکے بعد دیگرے اٹھے اور عظمت خلافت کے سامنے سرنگوں ہو کر رہ گئے۔ارتداد کا فتنہ اٹھا، مانعین زکوۃ نے بغاوت کا علم بلند کیا، منافقین نے امت مسلمہ کی شیرازہ بندی کو ختم کرنا چاہا، جھوٹے مدعیان نبوت نے قصر اسلام میں نقب زنی کی کوشش کی۔یوں نظر آتا تھا کہ یہ منہ زور فتنے عظمت اسلام کو پامال کر کے رکھ دیں گے لیکن جس خدا نے اپنے وعدہ کے مطابق امت مسلمہ کو خلافت کا انعام عطا فرمایا تھا اور جس نے یہ وعدہ فرمایا تھا۔وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارتَضى کہ میں اس خلافت کے ذریعہ اپنے اس پسندیدہ دین اسلام کو تمکنت ،عظمت اور سر بلندی عطا کروں گا۔اس سچے وعدوں والے خدا نے وقت کے خلیفہ سید نا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو وہ عزم حوصلہ اور اقد سام کی وہ آہنی قوت عطا فرمائی کہ