نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 59 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 59

۳۸ یعنی اور جو دین اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے وہ ان کے لئے اسے مضبوطی سے قائم کر دے گا۔پس خلافت کی دوسری بڑی برکت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ دین کو تمکنت اور مضبوطی عطا ہوتی ہے۔اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں میں صحیح اسلامی خلافت کا نظام یعنی خلافت راشدہ قائم رہی اسلام کو ترقی و غلبہ نصیب رہا۔اور جب مسلمان اپنی بد عملیوں کی پاداش میں اس خدائی انعام سے محروم ہوئے تو اس کے ساتھ ہی ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا سورج بھی ڈھل گیا۔ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی امیہ کے وصال مبارک کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے ثــم تـــــون خلافة على منهاج النبوة کے مطابق مسلمانوں کو خلافت سے نوازا تو خلافت راشدہ کے اس بابرکت دور میں جو اگر چہ صرف تمہیں سال پر محیط تھا اسلام کی شان و شوکت نہ صرف عرب میں بلکہ دنیا کے طول و عرض میں قائم ہوئی اللہ تعالیٰ نے مومنین کی جماعت کو جو وعدہ عطا فر مایا تھا کہ انتم الاعلون ان کنتم مومنین اس وعده کے مطابق مسلمانوں کو ہر میدان میں اور ہر جہت میں کامیابی اور غلبہ نصیب ہوا۔کہاں یہ حالت کہ وصال نبوی کے بعد فتنہ ارتداد نے نوبت یہاں تک پہنچا دی تھی کہ مدینہ کے علاوہ صرف ایک یا دو جگہ پر نماز باجماعت ادا کی جاتی تھی اور پھر یہ عالم کہ تمہیں سال کے اندر اندر مشرق میں افغانستان اور چین کی سرحدوں تک ، مغرب میں طرابلس اور شمالی افریقہ کے کناروں تک، شمال میں بحر قزوین تک اور جنوب میں حبشہ تک اسلامی پرچم لہرانے لگا۔خلافت راشدہ میں اسلام کی اس ترقی اور غلبہ کو دیکھ کر آج بھی دنیا انگشت بدنداں ہے۔