نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 457 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 457

۴۳۶ شرکت فرمائی اور پُر معارف خطاب سے نوازا۔حضور انور کے خطاب سے تمام دنیا میں موجود احباب وخواتین اپنے تمام غم بھول گئے اور دل کی پاتال تک خوشی ومسرت کا بسیرا ہو گیا۔یہ خدا تعالیٰ کا بہت احسان ہے کہ جس نے ایسا خلیفہ ہمیں عطا فرمایا جو محبت بھری دعاؤں کا نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔اس جلسہ کی سب سے اہم اور خاص بات یہ تھی کہ اس موقع پر تینوں خلافت کی مسندوں کے حامل شہروں قادیان، ربوہ اور لندن سے انٹرنیٹ Live سٹریمنگ کے ذریعہ دکھایا گیا جس میں تینوں شہروں کے مناظر اور نعرے پوری دنیا نے دیکھے اور قادیان میں اس تقریب کے لئے وہ جگہ منتخب کی گئی تھی جہاں سید نا حضرت خلیفہ لمسیح الاول کا انتخاب عمل میں آیا تھا اور جہاں آپ نے خلافت کی مسند پر بیٹھنے کے بعد سید نا حضرت مسیح موعود کا جنازہ پڑھایا تھا۔اس مقام قدرت ثانیہ کو اب ایک یادگار کی شکل دے دی گئی ہے۔کھلے میدان میں احباب کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔اس خوبصورت اور بابرکت تقریب میں قادیان اور گردونواح کی جماعتوں سے سینکڑوں احباب نے شرکت کی ،سکھ اور ہندو مہمان اور مقتدر شخصیات نے بھی اس موقع پر شرکت کی۔ربوہ میں یہ تقریب مرد حضرات کے لئے ایوان محمود اور خواتین کے لئے لجنہ ہال میں منعقد کی گئی۔ہر دو تقاریب میں 23 صد سے زائد احباب و خواتین، بچوں اور بچیوں نے شرکت کی۔ایوان محمود اس موقع کے لئے خاص طور پر سجایا گیا تھا۔ہال کے