نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 436 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 436

۴۱۵ پہلے زمانہ میں مانیٹر کو خلیفہ کہتے تھے اور لڑکوں کو ایک لڑکے کو خلیفہ کہتے سنے اور باہر آکر کہہ دے کہ خلیفہ تو اسے کہتے ہیں جولڑکوں کا مانیٹر ہوتا ہے۔اس لئے وہ شخص جو لڑکوں کا مانیٹر نہیں وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا۔خلیفہ کے لئے تو لڑکوں کا مانیٹر ہونا شرط ہے۔اسی طرح ایک شخص دیکھے کہ آدم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا اور ان کے فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدہ کرو۔وہ کہے کہ خلیفہ تو وہی ہوسکتا ہے جس کو سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں کا ملے ورنہ نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ایک اور شخص آنحضرت ﷺ کے خلفاء کو دیکھے جن کے پاس سلطنت تھی تو کہے کہ خلیفہ تو اس کو کہتے ہیں جس کے پاس سلطنت ہو اس کے سوا اور کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا کیونکہ خلیفہ کے لئے سلطنت کا ہونا شرط ہے لیکن ایسا کہنے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ خلیفہ کے لفظ کے معنی کیا ہیں؟ اس کے یہ معنی ہیں کہ جس کا خلیفہ کہلائے اس کا وہ کام کرنے والا ہوا اگر کوئی درزی کا کام کرتا ہے تو وہی کام کرنے والا اس کا خلیفہ ہے اور گر کوئی طالب علم کسی استاد کی غیر حاضری میں اس کا کام کرتا ہے تو وہ اس کا خلیفہ ہے۔اسی طرح اگر کوئی کسی نبی کا کام کرتا ہے تو وہ اس نبی کا خلیفہ ہے اگر خدا نے نبی کو بادشاہت اور حکومت دی ہے تو خلیفہ کے پاس بھی بادشاہت ہونی چاہئے اور خدا خلیفہ کوضرور حکومت دے گا اور اگر نبی کے پاس ہی حکومت نہ ہو تو خلیفہ کہاں سے لائے۔آنحضرت ﷺ کو چونکہ خدا تعالیٰ نے دونوں چیزیں یعنی روحانی اور جسمانی حکومتیں دی تھیں اس لئے ان کے خلیفہ کے پاس بھی دونوں چیزیں تھیں۔لیکن اب جبکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حکومت نہیں دی تو اس کا خلیفہ کس سے لڑتا پھرے کہ مجھے حکومت دو۔ایسا اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر غور نہیں کیا۔(سوانح فضل عمر جلد دوم ص ۵۰ تا ۵۲ )