نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 435 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 435

۴۱۴ تخصیص کی گئی تھی۔پھر خلافت علی منہاج نبوت کے بعد درمیانی زمانہ کے حالات و واقعات اور خرابیوں کا ذکر کر کے آخری زمانہ میں دوبارہ خلافت علی منہاج نبوت کا ذکر ملتا ہے۔خلافت علی منہاج نبوت سے مراد ایسی خلافت جو نبوت کے طریق پر قائم ہو اور جس کا مقصد انبیاء علیہم السلام کے مشن کو ہی آگے بڑھانا ہے۔تاریخ انبیاء کے مطالعہ سے صرف چند ایک ایسے انبیاء کا ذکر ملتا ہے جن کو نبوت کے ساتھ حکومت بھی حاصل تھی۔باقی تمام انبیاء کو دنیاوی حکومت حاصل نہ تھی۔لہذا ثابت یہ ہوا کہ خلافت علی منہاج نبوت سے مراد ایسی خلافت ہے جس کے لئے حکومت ارضی کا حاصل ہونا ضروری نہیں۔ویسے بھی مماثلت کے لئے ہر امر میں مشابہ ہونا ضروری نہیں جزوی مشابہت سے بھی مماثلت ثابت ہو سکتی ہے۔لہذا خلافت احمدیہ پر یہ اعتراض کہ اس کو چونکہ حکومت یا با دشاہت حاصل نہیں لہذا یہ آیت استخلاف کی مصداق یا خلافت راشدہ کی مثیل نہیں ہو سکتی غلط اور بے بنیاد ہے۔سوال نمبر ۳:۔کیا خلیفہ مامورمن اللہ ہوتا ہے؟ خص جواب:۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلیفہ وہ ہوتا ہے جو بادشاہ ہو یا مامور ہو تم کون ہو؟ بادشاہ ہو؟ میں کہتا ہوں نہیں۔مامور ہو؟ میں کہتا ہوں نہیں۔پھر تم خلیفہ کس طرح ہو سکتے ہو؟ خلیفہ کے لئے بادشاہ یا مامور ہونا شرط ہے۔یہ اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر ذرا بھی تدبیر نہیں کیا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک مخی درزی کی دکان پر جائے اور دیکھے کہ ایک لڑکا اپنے استاد کو کہتا ہے ” خلیفہ جی“۔وہ وہاں سے آکر لوگوں کو کہنا شروع کر دے کہ خلیفہ تو درزی کو کہتے ہیں اور کوئی شخص جو درزی کا کام نہیں کرتا وہ خلیفہ کس طرح ہو سکتا ؟ اسی طرح ایک شخص مدرسہ میں جائے