نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 429
۴۰۸ آئندہ ہونے والی تھیں اسی طرح جو خلفاء آپ کے بعد ہونے والے تھے ان کے متعلق آپ کو یہ علم دیا گیا تھا کہ وہ قبیلہ قریش میں سے ہوں گے اور پیشگوئی کی صورت میں قطعاً کوئی اعتراض نہیں رہتا کیونکہ بہر حال خلفاء نے کسی نہ کسی قوم یا قبیلہ میں سے ہونا تھا اور اگر اس وقت کے حالات کے ماتحت وہ سب کے سب قریش میں سے ہوئے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔اس زمانہ میں قریش کو دوسرے قبائل عرب پر ایک حقیقی اور یقینی فوقیت حاصل تھی اور انہیں چھوڑ کر کسی دوسرے قبیلہ میں عنان حکومت کا جانا ملک کے لئے سخت ضرر رساں تھا اور یقیناً کوئی دوسرا قبیلہ اس خیر و خوبی کے ساتھ نظام حکومت کو چلا نہ سکتا جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اسلام کے ابتدائی خلفاء نے چلایا مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اسلام نے قریش کو ہمیشہ کے لئے حکومت کا ٹھیکہ دے دیا تھا۔چنانچہ اگر ایک طرف آنحضرت ﷺ کا یہ قول مروی ہوا ہے کہ میرے بعد خلفاء و ائمہ اسلام قریش میں سے ہوں گے تو دوسری طرف آپ نے یہ بھی فرمایا کہ بالآخر قریش حکومت کی اہلیت کو کھو بیٹھیں گے اور اسلام کی حکومت کو تباہ و برباد کرنے کا موجب بن جائیں گے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ لا الله هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى يَدَى غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ يعنى ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت علی فرمایا کرتے تھے کہ میری امت کی تباہی بالآخر قریش کے نوجوانوں کے ہاتھوں سے ہوگی“۔یعنی جب قریش کی حالت خراب ہو جائے گی اور وہ حکومت کے اہل نہیں رہیں گے تو پھر اس کے بعد ان کے ہاتھ میں حکومت کا رہنا بجائے رحمت کے زحمت ہو جائے گا اور بالآخر قریش ہی کے ہاتھوں سے اسلامی حکومت کی تباہی کا سامان پیدا ہو جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور یہ جو بعض حدیثوں میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ قریش کی امارت