نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 428
وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ط یعنی ” خدا تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ باگ ڈور صرف اہل لوگوں کے سپرد کیا کرو (خواہ وہ کوئی ہوں ) اور جولوگ امیر منتخب ہوں انہیں چاہئے کہ اپنی حکومت کو عدل وانصاف کے ساتھ چلا ئیں۔اس آیت میں خلیفہ یا امیر کے لئے صرف یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ حکومت کا اہل ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور شرط نہیں لگائی گئی جو اس بات کی یقینی دلیل ہے کہ اسلام میں خلیفہ یا امیر کے لئے اہلیت کے سوا کوئی شرط نہیں ہے۔اسی طرح حدیث میں آنحضرت فرماتے ہیں:۔عن انس ان رسول الله الله قَالَ اِسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِن اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِی یعنی حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے مسلمانو! اگر تم پر ایک حبشی غلام بھی امیر بنا دیا جاوے تو تمہارا فرض ہے کہ اس کی اطاعت کرو۔اگر اسلام میں امیر کا قریشی ہونا ضروری تھا تو آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد بے معنی قرار پاتا ہے بلکہ اس صورت میں آپ کو یہ فرمانا چاہئے تھا کہ تم ہر قریشی امیر کی فرمانبرداری کرو خواہ وہ کیسا ہی ہو۔الغرض کیا بلحاظ اصول کے اور کیا بلحاظ تخصیص کے یہ بات بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ اسلام میں حکومت اور خلافت کو کسی خاص قوم کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے اور اسلامی تعلیم کی روح اس خیال کو دور سے دھکے دیتی ہے۔اب رہا یہ سوال کہ پھر ان احادیث کا کیا مطلب ہے جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ خلفاء اور ائمہ قریش میں سے ہوں گے۔سوان احادیث پر ایک ادنی تدبر بھی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہ ایک پیشگوئی تھی نہ کہ حکم یا سفارش یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے آنحضرت علی کے ذریعہ اور بہت سی باتوں کا اظہار فرمایا تھا جو