نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 424 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 424

۴۰۳ پس آپ کا مطلب تو یہ ہے کہ قرآن کریم سے حضرت ابو بکر کی خلافت حضرت علی کی خلافت سے زیادہ ثابت ہے نہ یہ کہ حضرت علی خلیفہ نہ تھے۔آپ نے اپنی کتب میں چار خلفاء کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں اور حضرت علی کی خلافت کا بھی ذکر فرمایا ہے۔دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ پہلے خلیفہ کی خلافت ثابت ہو جائے تو دوسرے کی خود بخود ثابت ہو جاتی ہے۔جیسے حضرت ابوبکر جب پہلے خلیفہ ہوئے اور پھر حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کا انتخاب کیا اور مسلمانوں سے مشورہ کر کے انہیں خلیفہ مقرر کیا۔سوال نمبر ۸:۔جب ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے لیکن اس کے عملی اظہار کے لئے انتخاب کو ضروری قرار دیا ہے تو اس پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے لئے تو یہ طریق نہیں اپنایا گیا بلکہ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی زندگی میں ہی انہیں اپنے بعد بطور خلیفہ نامزد کر دیا تھا۔اسی طرح حضرت عثمان کے انتخاب کے لئے بھی معروف طریق نہیں اپنایا گیا بلکہ حضرت عمرؓ نے اپنی زندگی میں ہی ۶، ۷ افراد پر مبنی ایک کمیٹی تشکیل دے دی تھی اور ساتھ یہ پابندی بھی لگا دی تھی کہ ابن عمر کے علاوہ دیگر کمیٹی کے افراد اپنے سے کسی کو متفقہ طور پر خلیفہ منتخب کریں گے۔لہذا ان دونوں خلفاء کے لئے مروجہ طریق انتخاب عمل میں نہیں لایا گیا۔جواب: اس سوال کا جواب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے اپنی کتاب سیرۃ خاتم النبین میں یوں فرماتے ہیں: اس شبہ کے جواب میں پہلے ہم حضرت عمرؓ کی خلافت کے سوال کو لیتے ہیں۔سو جاننا چاہئے کہ بے شک اسلام میں خلافت و امارت کے قیام کے لئے مشورہ اور انتخاب کا طریق ضروری ہے مگر جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں مشورہ اور انتخاب کے طریق کی نوعیت اور اس کی تفاصیل کے