نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 423 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 423

۴۰۲ موعود جس کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کا جمالی ظہور ہوا صرف دینی بادشاہ تھا اس لئے اس کے خلفاء بھی اسی طرز کے ہوں گے۔(منصب خلافت ص ۱۳۔انوارالعلوم جلد۲) سوال نمبرے:۔ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلافت موعودہ جس کا اس آیت استخلاف میں ذکر ہے۔محض اس خلیفہ کے متعلق ہے جو نبی کے معا بعد آتا ہے نہ کہ خلفاء کے ایک لمبے سلسلہ کے متعلق؟ جواب :۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت مصلح موعودا اپنی تقریر بعنوان خلافت راشدہ میں فرماتے ہیں:۔صلى الله رسول کریم ﷺ نے خود چاروں خلافتوں کو خلافت راشدہ قرار دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں عَنْ سَفِيْنَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ لا يَقُولُ الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ تَكُونُ مُلكًا یعنی حضرت سفینہ کہتے ہیں میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ میرے بعد خلافت صرف تھیں سال ہوگی اس کے بعد ملوکیت قائم ہو جائے گی۔اور چاروں خلفاء کی مدت صرف تمیں سال ہی بنتی ہے۔پس جب آنحضرت می خلافت کو چاروں خلفاء تک لمبا کرتے ہیں تو کسی دوسرے کا کیا حق ہے کہ اسے پہلے خلیفہ تک محدود کر دے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خیال کو سر الخلافة میں بیان فرمایا ہے مگر یہ درست نہیں۔آپ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ شیعوں کے رد میں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے اصل جانشین حضرت علی تھے۔آپ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ خلافت کا وعدہ قرآن کریم کی آیت وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمُ میں ہے اور اس میں جو شرائط پائی جاتی ہیں وہ بدرجہ کمال حضرت ابو بکر میں پائی جاتی ہیں۔