نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 335
سمندر ہیں۔۳۱۴ حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی تالیفات حسب ذیل ہیں :۔ا۔مذہب کے نام پر خون ۱۹۶۲ء۔۲۔ورزش کے زینے، ۱۹۶۵ء۔۳۔احمدیت نے دنیا کو کیا دیا، ۱۹۶۸ء۔۴۔آیت خاتم النبیین کا مفہوم اور جماعت احمدیہ کا مسلک ، ۱۹۶۸ء۔۵۔سوانح فضل عمر حصہ اول ۱۹۷۵ء۔۶۔سوانح فضل عمر حصہ دوم،۱۹۷۵ء۔۷۔ربوہ سے تل ابیب تک ۱۹۷۶ء۔۸۔وصال ابن مریم ، ۱۹۷۹ء۔۹۔اہل آسٹریلیا سے خطاب اردو اور انگریزی ۱۹۸۳ء۔۱۰- مجالس عرفان ۸۴-۱۹۸۳ء کراچی، ۱۹۸۹ء۔۱۱۔سلمان رشدی کی کتاب پر محققانہ تبصرہ، ۱۹۸۹ء۔۱۲ خلیج کا بحران اور نظام جہان نو ، ۱۹۹۲ء۔۱۳۔Islam's Response to Contemporary Issues ، ۱۹۹۲ء۔۱۴۔ذوق عبادت اور آداب دعا ۱۹۹۳ء۔۱۵۔Christianity A Journey from Facts to Fiction ۱۹۹۴ء۔۱۶۔زھق الباطل ۱۹۹۴ء۔۱۷۔کلام طاہر (کراچی)،۱۹۹۵ء۔۱۸۔حوا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ (کراچی)، ۱۹۹۵ء۔Revelation, Rationality, Knowledge and Truth_19 ۱۹۹۸ ء۔۲۰۔قرآن کریم کا اردو ترجمہ ۲۰۰۰ء۔۲۱۔بیشمار خطبات ولیکچرز سب سے بڑا کارنامہ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ جماعت کی عالمی وحدت اور منصب خلافت کا استحکام تھا۔آپ نے ہر فتنے کو کچلا، ہر وسو سے کی بیخ کنی کی ہر رنگ میں اس مضمون کو اس طرح کھولا کہ دنیا کی سازشوں کے باوجود آپ نے اپنی امانت نہایت شاندار