نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 317
۲۹۶ بيوت الحمد سکیم سپین میں خدا کا پہلا گھر بیت بشارت بنانے کی خوش میں شکرانے کے طور پر غریب اور ضرورتمند لوگوں کے لئے مکان بنانے کی سکیم کا اعلان بیت اقصیٰ ربوہ میں ۲۹ اکتو بر ۱۹۸۲ء کو فرمایا۔آپ کے عہد خلافت میں ۸۷ کشادہ اور آرام دہ مکان بن چکے تھے۔۵۰۰/افراد کو گھر کی حالت بہتر بنانے یا وسعت دینے کے لئے رقم دی گئی۔قادیان میں بھی ۳۷ بیوت الحمد تعمیر کئے گئے جہاں درویشان قادیان کے خاندان یا ان کی بیوائیں رہائش پذیر ہیں۔ربوہ سے ہجرت حضور کی قیادت میں جماعت نے بڑی سرعت سے ترقی کرنی شروع کر دی جس کے نتیجہ میں ۱۹۸۴ء سے پاکستان میں احمدیوں کے خلاف حکومتی سطح پر مخالفت میں تیزی آئی تھی۔چنانچہ ۱/۲۶اپریل ۱۹۸۴ء کو اس وقت کے صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے ایک حکمانہ جاری کیا جس پر عمل کرنے کی صورت میں احمدی کسی طرح بھی اپنے عقائد کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔خلیفہ وقت کا کام تو احمدیت کی ترقی ، پھیلا ؤ اور تربیت ہے۔اس حکمنامے سے یہ کام کرنا ناممکن ہو گیا۔لہذا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے اپنے وطن سے ہجرت اختیار کی۔۳۰ /اپریل کو اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت و تائید کے ساتھ لندن پہنچ گئے۔حضور اور جماعت کے لئے یہ دور بڑا سخت تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے ترقی کے نئے نئے سامان پیدا فرمائے۔حضور بنفس نفیس واپس ربوہ نہ آ سکے مگر MTA کے ذریعے دنیا میں ہر جگہ آپ کا دیدار کیا جا سکتا تھا۔