نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 315
۲۹۴ ۱۹۵۷ء میں واپس آئے اور پھر دینی خدمات میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔نومبر ۱۹۵۸ء میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو وقف جدید کی تنظیم کا ناظم ارشاد مقرر فرمایا۔آپ نے بے حد محنت کی جس کے نتیجے میں اس تنظیم نے تیز رفتاری سے ترقی کی۔نومبر ۱۹۶۰ء سے ۱۹۶۶ء تک آپ نائب صدر مجلس خدام الاحمد یہ رہے۔۱۹۹۰ء کے جلسہ سالانہ پر پہلی مرتبہ خطاب فرمایا اور اس کے بعد تاحیات خطاب فرماتے رہے۔۱۹۶۱ء میں افتاء کمیٹی کے ممبر مقرر ہوئے۔۱۹۶۶ء سے ۱۹۶۹ء تک صدر مجلس خدام الاحمد یہ رہے۔۱۹۷۰ء میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں جماعت کا موقف بتانے والی ٹیم کے ممبر تھے۔۱۹۷۹ء میں آپ صدر مجلس انصار اللہ مقرر ہوئے۔خلیفہ منتخب ہونے تک اس عہدہ پر فائز رہے۔خلافت رابعہ کے شیر میں ثمرات خلافت رابعہ کا دور روز اول سے ہی ایک عظیم الشان انقلاب انگیز دور نظر آ رہا ہے اور اس دور کا عنوان ”دعوت الی اللہ ہے۔آپ نے ”بیوت الحمد ربوہ“ اور دار الیتامی پاکستان اور بیرون پاکستان بنوانے کا شاندار منصوبہ تیار کیا۔علاوہ ازیں حضور کی طرف سے متعد دتحریکیں وقتاً فوقتاً ہوتی رہیں اور خدائی تائیدات اور نصرت الہی کے شاندار مظاہر اہل دنیا کی نظروں کے سامنے آتے رہے۔جماعت کے خلاف بڑھتی ہوئی پابندیاں در اصل اس امر کا ثبوت ہیں کہ ہم اپنی منزل کی طرف زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ذیل میں خلافت رابعہ کے بابرکت دور کی صرف چند جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں۔