نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 300
تیسری بشارت:۔حضور نے ۲۶ ستمبر ۱۹۰۹ء کو ایک خط میں رقم فرمایا کہ:۔مجھے بھی خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہوگا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو گا“۔(الفضل ۱/۸اپریل ۱۹۱۵ء) خداتعالی کی قادرا نہ تجلیات ملاحظہ ہوں کہ پاکستانی پریس نے حضرت خلیفۃ المسح الثالث کے خلیفہ منتخب ہونے کی خبر دیتے ہوئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا اسم گرامی ”ناصر الدین ہی لکھا۔(نوائے وقت ۱۰نومبر ۱۹۶۵ء ص ۱، امروزه انومبر ۱۹۶۵ء ص ۶) حضرت خلیفہ ایسیح الثالث کا عہد خلافت انتخاب خلافت ثالثه انتخاب خلافت کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنی زندگی میں ہی مجلس مشاورت میں جماعت کے نمائندوں کے مشورہ سے ایک مجلس انتخاب خلافت قائم فرما دی تھی اور اس کے قواعد بنادئیے تھے۔چنانچہ حضور کی وفات پر مورخہ ۸ نومبر ۱۹۶۵ءکوساڑھے سات بجے شب بعد نماز عشاء مسجد مبارک ربوہ میں اس مجلس انتخاب خلافت کا اجلاس زیر صدارت حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ناظر اعلیٰ منعقد ہوا۔پہلے سب ممبروں نے قاعدے کے مطابق خلافت سے وابستگی کا حلف اٹھایا۔اس کے بعد حضرت خلیفہ ثانی کے بڑے صاحبزادے حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کو خلیفہ اسیح الثالث منتخب کیا اور پھر سب ممبروں نے اسی وقت آپ کے