نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 296
۲۷۵ ہجری شمسی کیلنڈر ہمارے ہاں عام طور پر عیسوی کیلنڈر رائج ہے جس کی بنیاد کشی حساب پر ہے اور وہ حضرت عیسی کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے۔اس کے مقابل پر مسلمانوں کے ہجری سن میں قمری (چاند کے ) مہینے استعمال ہوتے ہیں۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کی زیر نگرانی ۱۹۴۰ء میں ہجری شمسی کیلنڈر رائج کیا گیا جو کہ حضور کا ایک خاص کارنامہ ہے۔اس میں کیلنڈر کی بنیاد منشی حساب پر رکھی گئی ہے مگر اس کی ابتداء حضرت عیسی کی پیدائش کی بجائے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ہجرت سے کی گئی۔اس لحاظ سے ۱۹۷۹ء میں ۱۳۵۸ء ہجری شمسی ہے۔یعنی شمسی لحاظ سے رسول کریم ﷺ کی ہجرت کو ۱۳۵۸ سال گزر چکے ہیں۔اس کیلنڈر کے بارہ مہینوں کے نام تاریخ اسلام کے خاص خاص واقعات کی بناء پر مندرجہ ذیل رکھے گئے ہیں۔یہ مہینے سن عیسوی کے مہینوں کے ساتھ ہی شروع اور ساتھ ہی ختم ہوتے ہیں:۔(۱) صلح (۲) تبلیغ (۳) امان (۴) شهادت (۵) ہجرت (۶) احسان (۷) وفا (۸) ظهور (۹) اخاء (۱۰) تبوک (۱۱) نبوت (۱۲) فتح جماعت کے نام وصیت پہلے ۱۹۴۷ء میں ہجرت کے موقع پر اور پھر ۱۹۵۸ء میں اپنی بڑھتی ہوئی بیماری کو مد نظر رکھ کر حضور نے وصیت کے رنگ میں جماعت کے نام کئی پیغام تحریر فرمائے جنہیں پڑھنا اور یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔صرف ایک پیغام کا ایک حصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے جو حضور نے اگست ۱۹۴۷ء میں ہجرت کے موقع پر تحریر فرمایا تھا۔