نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 267 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 267

۲۴۶ تفسیر کبیر کی اشاعت تبلیغ اسلام کے کام کو وسیع کرنے کے ساتھ ہی ساتھ آپ کو جماعت کی تعلیم و تربیت کا بھی بہت خیال رہتا تھا چنانچہ اس غرض سے آپ نے مردوں اور عورتوں میں الگ الگ قرآن مجید کا درس دینا شروع کیا جو بعد میں کتابی صورت میں تفسیر کبیر کے نام سے شائع ہو گیا۔یہ تفسیر علمی اور تربیتی لحاظ سے انتہائی اعلیٰ درجے کا شاہکار ہے متعد د مخالف علماء نے بھی اس کی تعریف کی اور اقرار کیا کہ مذہب کی اور قرآن مجید کی اہمیت کا اور اسلام کی حقیقی خوبیوں کا علم جس طرح ان تفسیروں سے حاصل ہوتا ہے اس طرح اور کسی کتاب سے نہیں ہو سکتا بہت سے لوگ حضور کی لکھی ہوئی ان تفسیروں کو ہی پڑھ کر ہدایت پاگئے۔ان تفسیروں کو پڑھ کر قرآن مجید کو سمجھنے کا اور اس کے مضامین کا علم حاصل کرنے کا ایک خاص ذوق اور ملکہ پیدا ہوتا ہے۔دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ ہمارے پیارے امام حضرت مصلح موعودؓ کے درجات کو بہت بہت بلند کرے جنہوں نے یہ قیر لکھ کر ہم پر بہت بڑا احسان کیا۔حضور کی یہ تفاسیر پیشگوئی مصلح موعود میں بیان فرمودہ اس پیشگوئی کہ:۔کلام اللہ کا مرتبہ اس سے ظاہر ہوگا اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا“ کے پورا ہونے کا زندہ جاوید ثبوت ہے۔تفسیر صغیر کی اشاعت پھر حضور نے قرآن مجید کا سلیس سادہ اور با محاورہ اردوزبان میں ترجمہ بھی شائع کیا اور اس کے ساتھ ضروری مقامات پر تفسیری نوٹ بھی لکھے۔یہ ترجمہ سب سے پہلے ۱۹۵۷ء میں تفسیر صغیر کے نام سے شائع ہوا۔یہ اپنوں اور غیروں میں بہت مقبول ہے۔