نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 247
۲۲۶ قبولیت حاصل ہوئی اور سینکڑوں نے احمدیت اختیار کی۔حیدر آباد دکن میں احمدیت نے بہت اثر ونفوذ پیدا کیا اور ایک بڑی جماعت قائم ہوگئی۔الحکم کی ایک خبر کے مطابق راس التین میں بیک وقت ڈیڑھ سو نفوس داخل احمدیت ہوئے۔مالا بار اور ماریشس میں بھی کئی لوگ احمدی ہوئے۔اسی طرح غیر ممالک میں بھی کئی لوگ سلسلہ میں شامل ہوئے۔غرضیکہ حضرت خلیفہ اول کے عہد میں جماعت کی تعداد میں نمایاں ترقی ہوئی۔( تاریخ احمدیت جلد ۳ نیا ایڈیشن ص ۶۰۸) بیرونی ممالک کی بعض احمدی جماعتیں حضرت خلیفہ اول کے دور خلافت میں بیرونی ممالک کے مندرجہ ذیل مقامات پر مختصرسی احمدی جماعتیں موجود تھیں۔نیروبی، کسومو، ممباسہ (افریقہ) ، مگوئی بنموک، رنگون (برما)، لندن علاوہ ازیں آسٹریلیا، چین، ہانگ کانگ، سنگاپور، ترکی، راس التین ، طرابلس، طائف، بغداد، جدہ، مصر اور ماریشس میں بھی احمدی پائے جاتے تھے۔حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ فرمایا ” ہماری جماعت چار لاکھ سے زیادہ ہے اور بلا دا فریقہ، یورپ و امریکہ و چین و آسٹریلیا میں ابھی پہنچے ہیں انشاء اللہ برس کے بعد آپ دیکھیں گے کس قدر کامیاب ہوئے“۔( تاریخ احمدیت جلد ۳ ص ۱۱ نیا ایڈیشن ) لٹریچر کی اشاعت خلافت اولیٰ کے عہد میں سلسلہ احمدیہ اور اسلام کی تائید میں اردو، انگریزی، ہندی اور گورمکھی اور پشتو اور فارسی زبان میں بکثرت لٹریچر شائع ہوا جس کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے۔اس دور کی چند مشہور تصانیف و تالیفات یہ ہیں۔صادقوں کی روشنی دلائل ہستی باری تعالیٰ، نجات، کسر صلیب نمبرا، اسلام اور بدھ مذہب،