نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 246
۲۲۵ ہمارے تمام معاملات میں نظر آنا چاہئے۔چنانچہ قادیان کے لوگوں میں خصوصاً اور باہر کی جماعتوں میں عموماً احکام دین کی پابندی کا بہت شوق تھا اور دوسری بات جس پر آپ بڑا زور دیا کرتے تھے وہ یہ تھی کہ ایک مسلمان ہر معاملہ کے متعلق جناب الہی میں گرے اور دعا کرتار ہے اور اس بات پر آپ زور دیتے کبھی تھکتے ہی نہ تھے۔جس کا نتیجہ یہ تھا کہ بڑے تو ایک طرف رہے چھوٹے بچے بھی رو رو کر دعائیں کرتے تھے اور جماعت میں عام طور پر یہ یقین تھا کہ مومنوں کی دعائیں خدا تعالیٰ سنتا ہے اور اس ذریعہ سے ہر تکلیف دور ہوسکتی ہے۔(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۳ ص ۶۰۳۶۰۲) تبلیغی جلسے اس دور کی یہ بھاری خصوصیت ہے کہ اس میں برصغیر ہندو پاک میں طول وعرض میں بڑی کثرت سے جلسے ہوئے اور احمدیت کا پیغام ہر طبقہ تک پہنچا۔بعض مشورہ مقامات جہاں جلسے ہوئے یہ ہیں۔قادیان ، میرٹھ ، کانپور، اٹاوہ ، موناھیر ، الہ آباد، امرت، سر، بٹالہ، شملہ، حیدرآباد دکن، پٹیالہ، بنگہ، کلکتہ، سامانہ، پٹیالہ، ہوشیار پور، سڑوعہ ضلع ہوشیار پور، کاٹھ گڑھ ضلع ہوشیار پور، لاہور، سیالکوٹ ، مردان ، ڈیرہ غازی خان، گوجرہ، لائل پور، برہمن بڑیہ، شاہجہانپور۔( تاریخ احمدیت جلد ۳ ص ۲۰۸) خلافت اولی کے بعض مبائعین خلافت اولیٰ میں ہزاروں سعید روحیں حلقہ بگوش احمدیت ہوئیں اور ہر طبقہ کے لوگوں نے حق قبول کیا۔خصوصاً سابق صوبہ سرحد شمال مغربی کشمیر اور ضلع ہزارہ میں احمدیت کا بڑا چرچا ہوا۔نواب خانی زمان خاں صاحب کے کئی کارکن احمدیت میں شامل ہوئے۔اس طرح اٹھول کا گاؤں احمدی ہو گیا۔بنگال میں احمدیت کو بہت