نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 240 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 240

۲۱۹ صبح سے شام تک اسی میں مصروف رہتے۔پہلے حضرت مسیح موعود کے مکانات کے قریب ہی اپنا کچا مکان تعمیر کرا کے اس میں رہائش اختیار کر لی۔بیماروں کے علاج سے جو آمدنی ہوتی اس کا بھی زیادہ تر حصہ چندہ کے طور پر حضور کی خدمت میں پیش کر دیتے یا یتیموں اور غریبوں کی پرورش میں صرف کر دیتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کی وفات حضرت خلیفہ اول چند ماہ بیمار رہنے کے بعد ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو جمعہ کے دن سوا دو بجے بعد دو پہر قادیان میں وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۱۴۷ مارچ ۱۹۱۴ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی نے خلیفہ ثانی منتخب ہو جانے کے بعد آپ کی نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد ہزاروں احمدیوں نے دین حق کے، قرآن مجید کے، آنحضرت ﷺ کے اور حضرت مسیح موعود کے اس عاشق صادق کو جو اپنے اندر بے نظیر خوبیاں رکھتا تھا اور عمر بھر دین کی خدمت کرتا رہا۔مقبرہ بہشتی مقبرہ قادیان میں حضرت مسیح موعود کے مزار کے پہلو میں دفن کر دیا۔حضرت خلیفہ اول کا مقام حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب خلیفتہ المسیح الاول بہت بزرگ انسان تھے۔آپ کو سب سے پہلے بیعت کرنے اور پھر ہر حالت میں حضرت مسیح موعود کا ساتھ دینے کی توفیق ملی۔خدا اور رسول کی محبت کے علاوہ انہیں قرآن مجید سے خاص عشق تھا، بیماری ہو یا صحت ہو، ہر حالت میں قرآن مجید کا ذکر اور اس کا درس ہی ان کی روح کی غذا تھی۔حضرت مسیح موعود کے ہر حکم کی پوری اطاعت کرتے تھے۔جب حضور کی طرف سے کوئی بلاوا آتا تو جس حالت میں بھی ہوتے فوراً بھاگ کر حضور کی