نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 204 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 204

۱۸۳ خلافت راشدہ کا اختتام اور ملوکیت کا آغاز حضرت عثمان کے دور خلافت میں جو فتنے اٹھے اور جن سازشوں نے جنم لیا۔دراصل انہی سازشوں کے نتیجہ میں ہی حضرت علیؓ کی شہادت ہوئی۔آپ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی گئی۔مگر آپ نے امت کو قتل و غارت گری سے بچانے کے لئے حضرت امیر معاویہؓ سے کچھ مراعات لے کر ان کے حق میں دستبرداری اختیار کر لی۔آپ کے اس اقدام کی شرعاً کیا حیثیت ہے اس پر ہم گزشتہ صفحات میں خلافت سے دستبرداری اختیار کرنا“ کے عنوان کے تحت روشنی ڈال چکے ہیں۔بہر حال اس طرح حضرت امیر معاویہ مسند خلافت پر بیٹھ گئے۔خلافت بنوامیه بنوامیہ، بنو ہاشم کی طرح قریش کا ایک ممتاز قبیلہ تھا جو دنیاوی جاہ و ثروت اور امارت کی بناء پر مشہور تھا۔قریش کی سپہ سالاری بھی اس قبیلہ کے سپرد تھی۔مسلمانوں اور قریش کے درمیان جنگوں میں ابوسفیان قریش کے سردار تھے جو فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے اور آنحضرت ﷺ نے ابو سفیان کے گھر کو دارالامان قرار دیا اور ان کے بیٹے معاویہ کو کاتب وحی مقرر کیا۔خلفائے راشدین کے زمانہ میں بنوامیہ نے اسلام کی خاطر عظیم کارنامے سرانجام دیئے۔حضرت عثمان خود بنوامیہ میں سے تھے۔انہوں نے اپنے عہد خلافت میں حضرت معاویہ گوشام کا والی مقرر کیا۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت معاویہ خود مختار بن گئے۔جس پر حضرت علی اور امیر معاویہ کے درمیان