نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 203
۱۸۲ حضرت علی کی شہادت جنگ صفین نیز مصر کی فتح کے بعد امیر معاویہ کا حوصلہ بڑھ گیا۔اب انہوں نے ہر طرف اسلامی صوبوں پر قبضہ کرنے کے لئے اپنی فوجیں روانہ کرنی شروع کر دیں۔علاوہ ازیں جنگ نہروان کے بعد اگر چہ خارجیوں کا زور ٹوٹ گیا تھا۔مگر پھر بھی یہ لوگ مصیبت کا باعث بنے رہے۔آخر ان کے تین آدمیوں عبدالرحمن بن ملجم ، بروک بن عبداللہ اور عمر و بن بکر تمیمی نے آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ حضرت علی ، امیر معاویہ اور عمرو بن العاص کو قتل کئے بغیر یہ فتنہ بند نہ ہوگا۔چنانچہ حسب پروگرام تینوں اپنے اپنے مشن کی طرف روانہ ہو گئے۔امیر معاویہ زخمی تو ہوئے مگر جان سے بچ گئے۔عمرو بن العاص اس روز بیمار تھے لہذا وہ نماز پڑھانے مسجد نہ جا سکے جس کے نتیجہ میں ان کو قتل کرنے والا اپنے مشن میں کامیاب نہ ہوسکا۔جبکہ ابن ملجم کوفہ پہنچ گیا اور حسب پروگرام ۱۵ رمضان کو مسجد میں جا کر چھپ رہا۔جب حضرت علی فجر کی نماز پڑھانے کے لئے تشریف لائے تو اس نے حضرت علی پر تلوار کا ایک بھر پور وار کیا۔لوگوں نے ابن حجم کو قابو کو قابو کر لیا مگر زخم کاری ہونے کے باعث حضرت علی تیسرے دن یوم شنبہ ۷ ارمضان المبارک ۴۰ ہجری کو انتقال فرما گئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔وفات سے پیشتر حضرت علیؓ نے اپنی اولا دکو جمع کیا اور وصیت کی کہ اگر میں گزر جاؤں تو صرف قاتل سے قصاص لینا۔دوسرے لوگ قتل نہ کئے جائیں۔قاتل کے اعضاء نہ کاٹے جائیں۔لوگوں نے پوچھا آپ کے بعد حضرت حسن کو خلیفہ بنا دیا جائے ؟ ” آپ نے فرمایا میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہتا“۔حضرت علی کی خلافت چارسال کچھ دن کم نو ماہ رہی۔