نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 199 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 199

۱۷۸ نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا "اے خدا! تو گواہ ہے کہ میں عثمان کے خون سے بری ہوں۔حضرت امام حسنؓ نے حضرت علی کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہ مانے اور اپنے بیٹے محمد بن حنیفہ کو بتا کر فوج اور سامان جنگ کی فراہمی میں مصروف ہو گئے۔جنگ جمل حضرت عائشہ کا اعلان جہاد انہی لوگوں کی ایک جماعت نے جو حضرت عثمان کے قتل میں شریک تھی۔حضرت عائشہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ آپ حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے جہاد کا اعلان کر دیں۔چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہ کو اپنی مدد کے لئے بلایا۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس کے نتیجہ میں حضرت علی اور حضرت عائشہؓ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے لشکر میں جنگ ہوئی جسے جنگ جمل کہا جاتا ہے اس جنگ کے شروع میں ہی حضرت زبیر، حضرت علی کی زبان سے رسول کریم ﷺ کی ایک پیشگوئی سن کر علیحدہ ہو گئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ حضرت علی سے جنگ نہیں کریں گے اور اس بات کا اقرار کیا کہ اپنے اجتہاد میں انہوں نے غلطی کی ہے۔دوسری طرف حضرت طلحہ نے بھی اپنی وفات سے پہلے حضرت علی کی بیعت کا اقرار کر لیا۔کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ وہ زخموں کی شدت سے تڑپ رہے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا انہوں نے پوچھا تم کس گروہ میں سے ہو۔اس نے کہا حضرت علیؓ کے گروہ میں سے۔اس پر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں