نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 198
122 ہم قصاص نہ لے سکیں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی امیہ اور بعض دوسرے صحابہ بھی مدینہ سے نکل گئے۔حضرت علیؓ نے مسند خلافت پر قدم رکھتے ہی حضرت عثمان کے عہد کے تمام والیان صوبجات کو معزول کر کے ان کی جگہ اپنے معتمد آدمی مقرر کر دیئے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت علی کے چچازاد بھائی حضرت عبداللہ بن عباس نے جو عقلمندی میں سارے عرب میں مشہور تھے۔انہیں اس کا انجام سمجھا کر اس سے باز رکھنے کی کوشش کی۔حضرت علی نہ مانے۔حضرت علیؓ نے اس معاملہ میں اس قدر جلال سے کام لیا کہ ان علاقوں کے ان لوگوں کی بیعت کا انتظار بھی نہ کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام والیان اور امراء نے نہ صرف بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔بلکہ حضرت علیؓ کے مقرر کردہ والیوں کو چارج بھی نہ دیا۔صرف بصرہ کا حاکم حج کو گئے تھے۔اس لئے عثمان بن حنیف نے اس صوبے پر جا کر قبضہ کر لیا۔امیر معاویہ تمام والیان میں سب سے زیادہ با اثر رئیس تھے۔خاندان بنوامیہ میں ہونے کے باعث حضرت عثمان کے طرف دار شام میں آ آ کر جمع ہونے لگے۔اس کے علاوہ امیر معاویہ کے پاس ایک بہادر اور قابل اعتبار فوج بھی تھی جو امیر معاویہ کو خلافت کا حقدار سمجھتی تھی۔حضرت علیؓ کی طرف سے جب انہیں معزولی کا حکم ملا تو انہوں نے بھی حضرت علی کی بیعت سے انکار کر دیا اور ایک خالی کاغذ پر ایک مہر لگا کر حضرت علیؓ کے پاس بھیج دیا۔حضرت علیؓ نے جب قاصد سے اس کا مقصد دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ حضرت عثمان کا خون آلود پیرہن اور آپ کی بیوی کی کٹی ہوئی ہتھیلی دمشق کی جامع مسجد کے ممبر پر پڑی ہوئی ہے۔جن پر ساٹھ ہزار لوگ ماتم کر رہے ہیں اور وہاں کے لوگ خلیفہ شہید کے قصاص کا مطالبہ کرتے ہیں۔حضرت علی