نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 190 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 190

۱۶۹ کے دستور کے مطابق تعلیم بھی حاصل کی۔فہم و فراست اور تقریر میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔شعر پڑھنے کا آپ کو بہت شوق تھا۔جملہ سرداران قریش کی طرح آپ کا ذریعہ معاش بھی تجارت ہی تھا۔اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ کا بھی وہی مذہب تھا جو دوسرے اہل مکہ کا تھا۔مگر اس کے باوجود آپ نے کبھی شراب کو پسند نہ کیا اور نہ دوسری بیہودہ رسموں میں حصہ لیا۔تا ہم مزاج میں جلال بہت تھا۔آنحضرت نے بارگاہ ایزدی میں دعا کی تھی کہ اے اللہ ! عمرو بن ہشام ( ابو جہل) اور عمر بن خطاب میں سے کسی ایک سے اسلام کو قوت اور شوکت عطا فرما۔اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت عمر کا کس طرح رعب اور دبدبہ تھا۔آنحضرت کی اسی دعا کے نتیجہ میں ہی ستائیس سال کی عمر میں آپ کو مشرف باسلام ہونے کی توفیق ملی۔حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں میں ایک خاص شوکت اور طاقت پیدا ہوگئی اور اس کے بعد انہوں نے اعلانیہ تبلیغ شروع کر دی۔آپ نے اسلام قبول کرنے کے بعد بہت سارے غزوات میں حصہ لیا۔عہد خلافت حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد جب آپ کے ہاتھ پر بیعت ہو چکی تو آپ نے منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا:۔عرب کی مثال اس اونٹ کی ہے جو اپنے ساربان کا مطیع ہو۔اس کے راہنما کا یہ فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ وہ اس کو کس طرف لے کر جارہا ہے۔میں رب کعبہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم کو سیدھا راستہ پر لے چلوں گا“۔( خلفاء اربعه ص ۶۹ - از مطبوعہ فیروز پرنٹنگ ورکس لا ہور باہتمام عبدالحمید خان )