نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 186
۱۶۵ میں سے ہونا چاہئے اور ایک مہاجرین میں سے ہو۔مگر مہاجرین نے اس تجویز کو قبول نہ کیا۔بالآخر تھوڑی دیر بحث و تمحیص کے بعد وہاں سب لوگ حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت پر متفق ہو گئے اور اسی وقت اور اسی جگہ آپ کی بیعت کر لی گئی۔اس کے بعد مسجد نبوی میں تمام انصار اور مہاجرین نے بھی متفقہ طور پر آپ کی بیعت عام کر لی۔بیعت عام کے بعد آپ نے حسب ذیل تقریر فرمائی:۔”لوگو! میں تم پر حاکم بنایا گیا ہوں۔حالانکہ میں تمہاری جماعت میں سے بہتر نہیں ہوں۔اگر میں اچھا کام کروں تو میری اطاعت کرو اور اگر کج روی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دو۔سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔تمہارا ضعیف فرد بھی میرے نزدیک قوی ہے۔یہاں تک کہ میں دوسروں سے اس کا حق اس کو نہ دلا دوں اور تمہارا قوی شخص بھی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسرں کا حق حاصل نہ کرلوں۔یا درکھو جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیتی ہے خدا اس کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے اور جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے خدا اس کو عام مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔اگر میں خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو اور اگر اس کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں“۔( تاریخ اسلام حصہ اول ص ۱۳۰ تا ۱۳۲) اس طرح حضرت حذیفہ بن یمان سے مروی حدیث تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمُ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ اَنْ تَكُونُ۔۔۔۔(مسند احمد بن حنبل ص ۲۷۳/۴) کے مطابق ربیع الاول ااھ میں حضرت ابو بکر کے مسند خلافت پر متمکن ہونے سے خلافت علی منہاج نبوت یعنی خلافت راشدہ کی بنیاد پڑگئی۔