نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 179 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 179

۱۵۸ مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قرآن کریم میں جہاں آنحضرت کو مومنوں کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں یہ حکم بھی ہے کہ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللہ پس جب تو مشورہ کے نتیجہ میں کسی فیصلہ پر پہنچ کرکسی کام کرنے کا پختہ عزم اور ارادہ کرے تو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کام کو کر گزرنا چاہئے۔لہذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خلیفہ وقت کے لئے مشورہ کرنا تو ضروری ہے مگر جماعت مومنین کے مشورہ پر عملدرآمد کرنے کا وہ پابند نہیں ہے۔اگر خلیفہ وقت اپنی خداداد فراست اور الہی راہنمائی کے نتیجہ میں مومنوں کے مشورہ کو مفید نہیں سمجھتا تو اسے مومنوں کے مشورہ کو رد کرنے کا اختیار اور حق حاصل ہے۔خلیفہ کے لئے مشورہ پر عمل کرنا ضروری نہیں ایک سوال:۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر مشورہ لے کر اس پر عمل کرنا ضروری نہیں تو اس مشورہ کا کیا فائدہ؟ جواب :۔اس کا جواب یہ ہے کہ مشورہ لغو نہیں بلکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک بات سوچتا ہے دوسرے کو اس سے بہتر سوجھ جاتی ہے پس مشورہ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مختلف لوگوں کے خیالات سن کر بہتر رائے قائم کرنے کا انسان کو موقع ملتا ہے جب ایک آدمی چند آدمیوں سے رائے پوچھتا ہے تو بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایسی تدبیر بتا دیتا ہے جو اسے نہیں معلوم تھی۔جیسا کہ عام طور پر لوگ اپنے دوستوں سے مشورہ کرتے ہیں کیا پھر اسے ضرور مان بھی لیا کرتے ہیں پھر اگر مانتے نہیں تو کیوں پوچھتے ہیں؟ اس لئے کہ شاید کوئی بہتر بات معلوم ہو پس مشورہ سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ اس پر ضرور کار بند ہوں بلکہ یہ غرض ہوتی ہے کہ ممکن ہے